منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

امدادی رقوم میں مبینہ خوردد برد،برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی کابھی ڈیلی میل کی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بارے رپورٹ پرردعمل سامنے آگیا

datetime 14  جولائی  2019 |

لندن(این این آئی)برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی نے ڈیلی میل کی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بارے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کی جانب سے فراہم کی گئی امدادی رقوم میں خوردد برد ممکن ہی نہیں اور نہ ہی اخبار نے کوئی ثبوت پیش کیے ہیں۔برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی نے اپنے وضاحتی بیان میں موقف اختیار کیا کہ پاکستان کے زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلئے رقوم کی فراہمی میں خورد برد ادارے کی سخت نگرانی کی پالیسی اور کرپشن سے پاک طریقہ کار کے باعث ناممکن ہے۔

ڈی ایف آئی ڈی کے ترجمان نے کہا کہ تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور امدادی رقوم کی کرپشن سے پاک ترسیلی نظام کے باوجود ڈیلی میل کی رپورٹ کے مندرجات پر غور کیا گیا ہے تاہم اس رپورٹ میں شواہد اور ثبوت کا فقدان ہے۔ترجمان ڈی ایف آئی ڈی نے کہا کہ برطانوی شہریوں کے ٹیکس سے زلزلہ متاثرین کی امداد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے دی گئی امدادی رقوم کو اس وقت ہی جاری کیا جاتا ہے جب مطلوبہ ہدف مکمل کرلیا گیا ہو۔ترجمان نے بتایا کہ زیادہ تر رقوم زلزلے میں تباہ ہوجانے والے اسکولوں کی از سر نو تعمیر میں استعمال ہوئیں اور یہ رقوم اسکولوں کی مکمل تعمیر، آڈٹ اور تصدیق کے بعد ادا کی جاتی ہیں اس لیے رقوم میں خرد برد کے امکانات صفر رہ جاتے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ ڈیلی میل کو ادارے کی جانب سے رقوم کی ترسیل اور تقسیم کے کرپشن فری نظام سے متعلق تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں۔ 2011 سے ادارے کے تعلیمی پروجیکٹ سے ایک کروڑ بچے مستفید ہورہے ہیں جبکہ زلزلہ سے متاثر 80 لاکھ پاکستانی باشندوں کے معیار زندگی بلند ہوئے۔ترجمان نے اپنے بیان میں برطانوی شہریوں کو یقین دلایا کہ ان کے ادا کیے گئے ٹیکس کی رقم اسی مد میں استعمال ہوئیں جس کا وعدہ کیا گیا تھا اور اس کے تمام تر دستاویزات حکومت کے پاس موجود ہیں۔واضح رہے کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے انکشاف کیا تھا کہ صوبہ پنجاب کے لیے برطانیہ کے 50 کروڑ پاؤنڈز کی امدادی رقوم میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مبینہ طور پر خرد برد کی اور چوری کیے گئے لاکھوں پاؤنڈز کو منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…