جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

امریکااورشمالی کوریا کی ناکام ملاقات کی وجہ ٹرمپ کاغذ کا ایک ٹکڑاقرار

datetime 31  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اْن کے درمیان گزشتہ ماہ ویتنام میں منعقدہ اجلاس کی ناکامی ٹرمپ کی جانب سے دیئے گئے کاغذ کے ایک ٹکڑے کو قرار دیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان کو کاغذ کا ایک ٹکڑا تھمایا تھا جس میں مبینہ طور پر شمالی کوریا سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنا جوہری اسلحہ اور بم امریکا منتقل کردے۔

رپورٹ کے مطابق شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے پہلی مرتبہ کم جونگ ان کو براہ راست غیر مسلح ہونے کے حوالے سے ان کے مطالبے اور طریقہ کار سے آگاہ کیا تھا۔امریکا کے موجودہ سلامتی مشیر جان بولٹن نے 2004 میں ایک تجویز دی تھی کہ شمالی کوریا اپنا اسلحہ امریکا کے حوالے کرے اور اپنی اسی تجویز کو انہوں نے گزشتہ برس بھی دہرایا تھا، جب انہیں باقاعدہ طور پر اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کے کاغذ کے ٹکڑے میں کس طرح سے غیر مسلح ہونا ہے اور اسلحے کو امریکا کے حوالے کیسے کیا جائے اس کی تمام تفصیلات درج تھیں۔وائٹ ہاوس کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا جبکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس کاغذ میں درج تفصیلات کے حوالے سے کچھ بتانے سے گریز کیا۔یاد رہے کہ 28 فروری کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات اچانک ختم ہوگئی تھی جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کی جانب سے امریکی پابندیاں ہٹانے کے اصرار پر ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سربراہی ملاقات کی ناکامی کا ذمہ دار شمالی کوریا کو قرار دیا تھا کہ کم جونگ اْن نے جوہری ہتھیاروں کا مکمل استعمال ترک کرنے پر آمادہ ہوئے بغیر امریکا کی جانب سے پیانگ یانگ پر عائد تمام پابندیاں ہٹائے جانے پر اصرار کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے طے شدہ وقت سے قبل سربراہی اجلاس ختم ہونے کے بعد الوداعی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بعض اوقات آپ کو چلنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ ایک تجویز کردہ معاہدے پر دستخط ہونے تھے لیکن میں جلد بازی کے بجائے درست معاہدہ کرنا بہتر سمجھتا ہوں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم کچھ خاص کرنے کی پوزیشن

میں ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اْن نے ملاقات کے بعد ظہرانے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تقریب میں بھی شرکت کرنی تھی تاہم وہ بھی منسوخ ہوگئی۔خیال رہے کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام کو خلیج نما کوریا کی سیکیورٹی کی مضبوط ترین ضمانت کے طور پر دیکھتا ہے۔اس حوالے سے

کم جونگ اْن سے جب پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے تیار ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ اگر میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تو میں اس وقت یہاں نہیں ہوتا۔امریکی صدر نے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اعلان کیا کہ ایک فوری معاہدے کے بجائے وہ ایک درست معاہدے کے خواہش مند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…