پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ کرائسٹ چرچ، وہ بہادر پاکستانی خاتون جو 12 افراد کی جان بچانے میں کامیاب ہوئی،عالمی میڈیا بھی تعریف کئے بنا رہ سکا

datetime 29  مارچ‬‮  2019 |

ویلنگٹن(این این آئی)سانحہ نیوزی لینڈ میں جہاں ایبٹ آباد کے نعیم رشید نے جان کی بازی لگا کر دہشت گرد کو روکنے کی کوشش کی وہیں ایک اور پاکستانی خاندان کے سبب ایک درجن سے زائد قیمتی جانیں محفوظ رہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستانی شہری حناگاڑی ڈرائیو کر کے اپنے شوہر عامر کو نماز جمعہ کے لیے النور مسجد چھوڑنے پہنچی ہی تھیں کہ

دہشت گرد مسجد سے باہر نکلا اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں پر فائرنگ کردی۔حناعامر کا کہنا تھا کہ جدید ترین ہتھیار سے دہشت گرد جس طرح اندھا دھند فائرنگ کررہا تھا اور لوگ جان بچانے کی کوشش میں باہر نکل رہے تھے۔حنا کے شوہر نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر حنا نے کار ریسورس کرنے کی کوشش کی مگر پیچھے کئی گاڑیاں موجود ہونے کے سبب وہ ناکام رہیں جبکہ ایک گاڑی کے سامنے آنے کے سبب وہ اتر بھی نہ سکیں۔اس دوران جان بچانے کے لیے 10 سے افراد نے ان کی سیاہ گاڑی کے پیچھے پناہ لے لی جبکہ دہشت گرد نے گاڑی کی دوسری طرف سے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔حنا ،عامر اور موجود تمام افراد کار میں جتنا نیچے ہو سکتے تھے، چھپ گئے۔ان کی کار کو 26 گولیاں لگیں مگر معجزانہ طور پر نہ صرف یہ جوڑا بلکہ گاڑی کے پیچھے چھپے افراد بھی محفوظ رہے تاہم ایک کمسن محمد حاذق پناہ کے لیے گاڑی کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کہ دہشت گرد نے اسے گولیوں کا نشانہ بنادیا۔سوفٹ ویئرٹیسٹنگ کے شعبے سے وابستہ حنا عامر اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ تین برس پہلے ہی نیوزی لینڈمنتقل ہوئی ہیں ، دکھی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ہم جماعت کی زندگی نہ بچا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…