پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں امریکی سفیر کی عمران خان پر تنقید، وفاقی وزراء کا کرارا جواب

datetime 28  مارچ‬‮  2019 |

کابل(این این آئی)افغانستان میں تعینات امریکی سفیر جون راڈنی باس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان پر تنقید پر وزراء نے بھرپور جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ جتنی کم معلومات آپ کو بال ٹیمپرنگ سے متعلق ہے اتنی ہی افغانستان اور خطے کے بارے میں ہے۔امریکی سفیر نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ کرکٹ کے کچھ پہلو سفارت کاری پر اپلائی ہوتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتے،

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ضروری ہے کہ افغان امن عمل میں ٹیمپرنگ نہ کی جائے اور یہ اندرونی معاملہ ہے۔امریکی سفیر کے اس بیان کے بعد وفاقی وزراء نے جون راڈنی باس پر خوب جوابی وار کیے، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر ہی افغان سفیر کو جواب دیا۔شیریں مزاری نے سفیر کو بونا قرار دیتے ہوئے کہا جتنی کم معلومات آپ کو بال ٹیمپرنگ سے متعلق ہے اتنی ہی افغانستان اور خطے کے بارے میں ہے، واضح طور پر آپ کے معاملے میں جہالت یقینی طور پر پسند نہیں ہے۔شیریں مزاری نے سفیر کے رویے کو ڈونلڈ ٹرمپ کا نامناسب رویہ قرار دیا جو خلیل زاد اپناتے ہیں۔وزیر خزانہ اسد عمر نے امریکی سفیر کو اپنے جواب میں کہا کہ آپ کی ٹوئٹ ظاہر کرتی ہے کہ آپ نہ ہی کرکٹ کے بارے میں جانتے ہیں اور نہ سفارتکاری کے بارے میں۔انہوں نے کہاکہ افغان امن عمل مشکل وقت میں ہے اور امید ہے کہ امریکا اس قابل ہوگا کہ بہتر سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو دیکھے گا۔وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بھی سفیر جون باس کو جواب دیا اور کہا کہ آپ مختلف حکومتوں کے ادوار میں آدھی دنیا گھومیں ہیں، جس کے دوران ہر جگہ ہزاروں لوگوں کو کیوں قتل کیا گیا؟۔علی زیدی نے کہا کہ امریکا کے کئی اچھے سفیر گزرے ہیں تاہم افسوس ہے کہ آپ اپنے رویے کی وجہ سے اس فہرست میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…