ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

فرانسیسی ریاضی دان کے کے ٹوکی چوٹی کے بارے میں حیران کن انکشاف

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(یواین پی)پاکستان میں پائی جانے والی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے 2 کو یوں تو اپنی اونچائی کے باعث خاص اہمیت حاصل ہے تاہم حال ہی میں اس کے بارے میں ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ایک فرانسیسی ریاضی داں ڈینیئل پیروشیا نے اپنی کتاب دا کیس آف کے 2، میتھا میٹیکس اینڈ مانٹیرنگ میں کے 2 کی چوٹی کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔

دنیا کی دوسری بلند ترین اس چوٹی کی لمبائی 8 ہزار 6 سو 11 میٹر ہے۔کتاب میں کہا گیا ہے کہ کے 2 کی چوٹی نہایت خوبصورت اور ایک مکمل ہرم(تکون عمارت)ہے۔سائنسدانوں کے مطابق تعمیرات میں تکون اہرام کو نہایت اہمیت حاصل ہے، یہ زاویہ اپنے اندر حیران کن خصوصیات رکھتا ہے۔اگر اہرام کو سطح زمین پر شمال اور جنوب کی سمت پر رکھا جائے تو اہرام کے اندر رکھی اشیا محفوظ رہتی ہیں کیونکہ شمال سے جنوب کی جانب مقناطیسی لہریں چلتی ہیں۔اگر قطب نما کو کسی بھی سطح پر رکھا جائے تو اس کی سوئی ہمیشہ شمال اور اس کا دوسرا حصہ جنوب کی جانب رہے گا لہذا اس سمت چلنے والی یہ مقناطیسی لہریں اپنا اثر دکھاتی ہیں اور اشیا کو محفوظ رکھتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مصر کے عظیم اہرام میں رکھے گئے فراعین کے حنوط شدہ جسم ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اب تک صحیح سلامت موجود ہیں۔ناسا کے ایک سائنسدان کے مطابق اہرام توانائی کا ذریعہ ہیں، ماہرین کے مطابق اس طرح اہرام بنا کر اس میں رہا جائے اور مراقبہ کیا تو ذہن پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔قدیم مصریوں کا خیال تھا کہ تکون اشکال کی عمارات توانائی کو اپنی جانب کھینچتی ہیں تاہم تاحال سائنسدان اس معمے کو حل کرنے میں ناکام ہیں کہ توانائی اس مجموعے کی جانب کیسے اور کیوں کشش کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…