ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

موہن جودڑو اور ہڑپہ کس کی وجہ سے تباہ ہوئے ؟ امریکی ماہرین کے حیران کن انکشافات

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن) امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں قدیم تہذیب سندھ کے زوال کی اہم وجہ ہیں اور ان ہی کے باعث موہن جودڑو اور ہڑپہ تہذیب دھیرے دھیرے تباہی سے دوچار ہوکر فنا ہوگئیں۔ امریکا میں واقع وْوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ایک نئے تجزیے کے مطابق عمدہ شہر، گودام، نکاسی کے نظام اور بہترین شہری سہولیات ہونے کے باوجود چار ہزار سال پرانی یہ تہذیب آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کی وجہ سے روبہ زوال ہوکر فنا ہوگئی تھی۔1800

قبل مسیح میں قدیم تہذیب کے باشندوں نے اس شہر کو خیرباد کہنا شروع کیا اور ہمالیہ کے دامن میں جاکر چھوٹے چھوٹے گاؤں میں رہنا شروع کردیا۔ ووڈ ہولز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے یہ خطہ ناقابل رہائش ہونے لگا تھا۔2500 قبل مسیح میں ہڑپہ تہذیب کا موسم بدلنا شروع ہوا اور موسم گرما کا مون سون نظام دھیرے دھیرے کمزور پڑا۔ زراعت مشکل ہوگئی اور غلہ بانی بھی کم ہوتی گئی اور یوں یہ عظیم تہذیب اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔اس ضمن میں وْوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ارضیات داں ڈاکٹر لائی ویو گایوسِن اور ان کے ساتھیوں نے اس پر تحقیق کرکے مقالہ شائع کیا ہے جو 13 نومبر 2018ء کے ’کلائمٹ آف دی پاسٹ‘ نامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مون سون کے بگاڑ نے پوری وادی میں کھیتی باڑی کو ناممکن بنادیا تھا۔لیکن اس دوران بحیرہ روم کے طوفان ہمالیائی سلسلے سے ٹکراتے تھے اور پاکستانی علاقوں میں تھوڑی بہت بارش کی وجہ ضرور بنتے تھے لیکن مون سون نہ ہونے کی وجہ سے دریاؤں کا بہاؤ شدید متاثر ہوا۔ اسی لیے وادی سندھ کے لوگوں نے دیگر علاقوں میں سکونت اختیار کی اور یوں دھیرے دھیرے پوری بستی ہی خالی ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…