جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے خطرہ،جرمنوں کو دفاع کرنا ہو گا، جرمن وزیر خارجہ

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ جرمنوں کو جمہوریت کے دفاع کی خاطر کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے خوف کی وجہ سے عالمی سطح پر جرمنی کی ساکھ کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے جرمن شہریوں پر زور دیا کہ وہ نسل پرستی

کے خلاف جنگ میں زیادہ فعال کردار کریں۔ اتوار کے دن جرمن روزنامے بلڈ اَم زونٹاگ میں شائع ہونے والے ایک تازہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جرمنوں کو جمہوریت کا دفاع کرنے کی خاطر کھڑا ہونا چاہیے۔جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کے مطابق بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اطمینانیت بہت زیادہ پھیل چکی ہے، جس پر ہمیں قابو پانے کی ضرورت ہے۔ہائیکو ماس نے مزید کہاکہ ہمیں صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہونا ہے اور آواز بلند کرنا ہے۔ ماس نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جرمن شہری اس رویے کو ترک کریں اور عمل کریں۔ماس نے اعتراف کیا کہ آج کی جرمن نسل آزادی میں پیدا ہوئی، جہاں قانون کا بول بالا ہے اور جمہوریت ہے،ہمیں (ان آزادیوں کی خاطر) جدوجہد نہیں کرنا پڑی ہے۔جرمن وزیر ماس کے مطابق کبھی کبھار جرمن اس تمام صورتحال کو انتہائی غیر سنجیدہ لے لیتے ہیں۔ انہوں نے تمام جرمن شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جرمنی کی عالمی ساکھ کو بچانے کی خاطر فعال ہوں جائیں۔ہائیکو ماس نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر آج ایک مرتبہ پھر ہماری سڑکوں پر لوگ ہٹلر کا مخصوص سلیوٹ کرتے ہیں تو یہ ہمارے ملک کے لیے بے عزتی کا باعث ہو گا۔ہائیکو ماس نے کہا کہ تمام لوگوں کو دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا کیونکہ جرمن اس صورتحال کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں، ہمیں نیو نازی اور یہودی مخالف جذبات کا دوبارہ خاتمہ کرنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…