جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی اور سپین کے مابین مہاجرین کی واپسی کا معاہدہ طے

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی اور اسپین کی حکومتوں کے مابین مہاجرین کی واپسی سے متعلق ڈیل طے پا گئی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق سپین سے جرمنی آنے والے تارکین وطن کو واپس سپین بھیج دیا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن وزارت داخلہ کی ایک ترجمان نے بتایا کہ برلن اور میڈرڈ کی حکومتوں نے اسپین میں رجسٹر شدہ مہاجرین کو جرمنی سے واپس بھیجنے کے سلسلے میں

ایک دو طرفہ معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے۔ جرمن دارالحکومت برلن میں وزارت داخلہ کی خاتون ترجمان پیٹرمان کے مطابق اس معاہدے پر تین روز بعد یعنی گیارہ اگست سے عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ جرمن حکومت نے ہسپانوی حکومت کے ساتھ تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دینے کے سلسلے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی۔دوسری جانب برلن حکومت کی جانب سے روم اور ایتھنز کی حکومتوں کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدوں کے سلسلے میں مذاکرات کیے جارہے ہیں۔ جب کہ یونان اور اٹلی کی جانب سے بھی یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ ایسے مہاجرین کو واپس لینے کے بعد جرمنی ان کے بدلے دیگر تارکین وطن کو اپنے ہاں پناہ دے۔ تاہم جرمن وزیر داخلہ نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔ ان تینوں یورپی ممالک کے درمیان اس معاملے پر جاری مذاکرات کا حتمی فیصلہ بہت جلد سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔قبل ازیں چانسلر میرکل کی حکومت دوسرے یورپی ملک میں رجسٹرڈ مہاجرین کو جرمن سرحدوں سے واپس بھیجنے کی بجائے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تاکہ اس مسئلے کو یک طرفہ طریقے سے حل کرنے کی بجائے یورپی سطح پر ایک متفقہ حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ اس معاملے پر چانسلر میرکل اور وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کے مابین شدید اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے۔یہ امر بھی اہم ہے کہ ڈبلن معاہدے کے مطابق یورپی یونین کی حدود میں پناہ کی درخواست جمع کروانے والے مہاجرین کو اس ملک واپس بھیج دیا جانا ہوتا ہے، جہاں ان کی ابتدائی درخواست کا اندراج ہوا ہو۔ تاہم سن 2015 اور 2016 کی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر ڈبلن معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…