جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

جرمنی اور سپین کے مابین مہاجرین کی واپسی کا معاہدہ طے

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی اور اسپین کی حکومتوں کے مابین مہاجرین کی واپسی سے متعلق ڈیل طے پا گئی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق سپین سے جرمنی آنے والے تارکین وطن کو واپس سپین بھیج دیا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن وزارت داخلہ کی ایک ترجمان نے بتایا کہ برلن اور میڈرڈ کی حکومتوں نے اسپین میں رجسٹر شدہ مہاجرین کو جرمنی سے واپس بھیجنے کے سلسلے میں

ایک دو طرفہ معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے۔ جرمن دارالحکومت برلن میں وزارت داخلہ کی خاتون ترجمان پیٹرمان کے مطابق اس معاہدے پر تین روز بعد یعنی گیارہ اگست سے عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ جرمن حکومت نے ہسپانوی حکومت کے ساتھ تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دینے کے سلسلے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی۔دوسری جانب برلن حکومت کی جانب سے روم اور ایتھنز کی حکومتوں کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدوں کے سلسلے میں مذاکرات کیے جارہے ہیں۔ جب کہ یونان اور اٹلی کی جانب سے بھی یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ ایسے مہاجرین کو واپس لینے کے بعد جرمنی ان کے بدلے دیگر تارکین وطن کو اپنے ہاں پناہ دے۔ تاہم جرمن وزیر داخلہ نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔ ان تینوں یورپی ممالک کے درمیان اس معاملے پر جاری مذاکرات کا حتمی فیصلہ بہت جلد سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔قبل ازیں چانسلر میرکل کی حکومت دوسرے یورپی ملک میں رجسٹرڈ مہاجرین کو جرمن سرحدوں سے واپس بھیجنے کی بجائے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تاکہ اس مسئلے کو یک طرفہ طریقے سے حل کرنے کی بجائے یورپی سطح پر ایک متفقہ حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ اس معاملے پر چانسلر میرکل اور وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کے مابین شدید اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے۔یہ امر بھی اہم ہے کہ ڈبلن معاہدے کے مطابق یورپی یونین کی حدود میں پناہ کی درخواست جمع کروانے والے مہاجرین کو اس ملک واپس بھیج دیا جانا ہوتا ہے، جہاں ان کی ابتدائی درخواست کا اندراج ہوا ہو۔ تاہم سن 2015 اور 2016 کی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر ڈبلن معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…