جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی شاہ سلمان کی کرپشن کو بے نقاب کرنے والوں کے تحفظ کی ہدایت

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مالیاتی اور انتظامی بدعنوانیوں کی نشان دہی اور شکایت کرنے والے ہر سرکاری ملازم کو مناسب تحفظ مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انھیں بعد میں کسی قسم کی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے انسدادِ بد عنوانی کمیشن کے ڈاکٹر خالد المہیسن نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین کی ہدایت سے ان کی اس معاملے میں دلچسپی اور تشویش کی عکاسی ہوتی ہے۔

وہ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بدعنوانیوں کی نشان دہی کرنے والے شہریوں اور مکینوں کا تحفظ چاہتے ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایسے شہریوں اور ملازمین کو بدعنوانیوں کی نشان دہی کرنے پر کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ڈاکٹر خالد المہیسن نے مزید کہا کہ سعودی قیادت کرپشن کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے اور وہ کرپٹ عناصر سے کوئی رو رعایت برتنے کو تیار نہیں ۔ اس لیے سعود ی عرب کے ویڑن 2030ء کے تحت بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔اس ویڑن کے تحت شفافیت اور بدعنوانیوں کے خلاف جنگ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…