جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں زیتون کے درخت کس ملک میں پائے جاتے ہیں؟جانئے

datetime 5  مئی‬‮  2018 |

ریاض(سی پی پی) سعودی عرب کے شمالی صوبے الجوف کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیے جانے کے بعد اسے عالم گیر توجہ حاصل ہو گئی ہے۔ الجوف کو یہ اعزاز دنیا میں زیتون کے سب سے زیادہ درختوں کی موجودگی کے سبب ملا۔ اس میدان میں چِلی، کیلیفورنیا اور تیونس اہم مقابل شمار ہوتے ہیں۔اردن کی سرحد کے نزدیک واقع اس سعودی صوبے میں وسیع پیمانے پر زیتون کے درخت کی کاشت

اور وافر مقدار میں زیتون کی پیداوار ہوتی ہے۔الجوف میں زیتون کی کاشت 2007 سے شروع ہوئی جب کہ حقیقی آغاز 2009 سے شمار کیا جاتا ہے۔ اس دوران الجوف کے علاقے “بسیطا” میں کاشت کا سلسلہ پھیل گیا اور اس وقت وہاں زیتون کے 1.3 کروڑ سے زیادہ درخت ہیں۔الجوف کی زراعتی اراضی میں اس وقت زیتون کے درختوں کی مجموعی تعداد 50 لاکھ ہو چکی ہے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ ان درختوں کو 18 ہزار ایکڑ کے رقبے پر لگایا گیا ہے۔الجوف ایگری کلچر کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر عبدالعزیز الحسین نے عرب خبررساں ادارے کو بتایا کہ سعودی عرب 30 ہزار ٹن کے قریب زیتون کا تیل درآمد کرتا ہے۔ صارفین میں غذائی نظام کے حوالے سے آگاہی بڑھنے کے ساتھ اس کے استعمال میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ مملکت میں اس کے استعمال میں سالانہ 25% کا اضافہ ہو رہا ہے جب کہ پیداوار کی سالانہ شرح نمو 10% سے تجاوز نہیں کر رہی۔الحسین کے مطابق “ایگری کلچرل انویسٹمنٹ فنڈ کی جانب سے زیتون کے 30 لاکھ درخت کی کاشت کو سپورٹ کیا گیا۔ مقامی پیداوار سے مملکت میں زیتون کے تیل کے مجموعی استعمال کا 20 فی صد سے بھی کم حصہ پورا ہوتا ہے جب کہ بقیہ حجم درآمدات سے پورا کیا جاتا ہے”۔الجوف صوبے کے سرکاری حکام نے 2008 کے اوائل میں زیتون سے متعلق ایک خصوصی میلے کا انعقاد کیا تھا۔ اس دوران صوبے میں زیتون کی کی تمام اقسام کو نمائش کے واسطے پیش کیا گیا۔

اس میلے کے انعقاد نے زیتون کی پیداوار کے میدان میں الجوف کی شناخت پیدا کر دی۔سائنس دان فلسطین سے لے کر اردن، لبنان اور شمالی ایران تک کے علاقے کو زیتون کے درختوں کی کاشت کا علاقہ قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کی ہجرت کے باعث زیتون کی کاشت جزیرہ عرب سے نکل کر افریقہ کے عرب ممالک اور یورپ میں ہسپانیہ بھی پہنچ گئی۔ہسپانیہ ابھی بھی زیتون کی کاشت میں عالمی طور پر دوسری پوزیشن پر ہے۔ فلسطین میں بعض مقامات پر موسمی بارشوں اور دیگر علاقوں میں نہری پانی کا سہارا لے کر زیتون کے درختوں کی کاشت کی جاتی ہے۔زیتون کے درخت کا شمار ان درختوں میں ہوتا ہے جن کی عمر بہت طویل ہوتی ہے۔ یہ ان درختوں میں سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جن کے پھلوں سے تیل نکالا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…