اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

قندوز میں مدرسے پر وحشیانہ حملے میں درجنوں حافظ قرآن طلباء کی شہادت، حملہ ہم نے نہیں بلکہ کس نے کیا؟ امریکہ کا حیرت انگیز موقف سامنے آ گیا

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

قندوز (نیوز ڈیسک) امریکی فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حافظ قرآن طلباء پر بمباری کردی، اس بمباری سے افغانستان کے صوبے قندوز میں 150 سے زائد افراد شہید ہو گئے، ان شہداء میں بڑی تعداد حافظ قرآن کی تھی جو حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد تقریب دستار بندی میں شرکت کے لیے وہاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔ دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوج نے بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مدرسے پر بمباری کی

جبکہ دوسری طرف طالبان نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ بمباری کے دوران مدرسے میں طالبان کا کوئی اجلاس جاری تھا یا وہاں کوئی طالبان کمانڈر موجود تھا۔ اس کے علاوہ امریکی فوج نے بھی قندوز میں مدرسے پر ہونے والی بمباری سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکی فوج نے ایسا کوئی حملہ کیا ہی نہیں ہے۔ وائس آف امریکہ کا کہنا ہے کہ حملے میں کم از کم 59 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے بیشتر مدرسے میں زیرِ تعلیم بچے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے افغان صوبے قندوز میں مدرسے پر ہونے والی بمباری میں درجنوں عام شہریوں کی ہلاکت کے الزام کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں موجود انسانی حقوق کے ماہرین کی ٹیم حقائق جمع کرنے میں مصروف ہے۔ اے ایف پی کے مطابق عینی شاہدین نے کہا کہ شمال مشرقی صوبے قندوز میں واقع مدرسے میں تقسیم اسنادکا جلسہ جاری تھا جس کے دوران وہاں افغان ائیر فورس نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بمباری کی، تقریب میں سینکڑوں افراد شریک تھے، اپنی آفیشل ویب سائٹ پر افغان طالبان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جارح امریکی و کٹھ پتلی فوجوں نے قندوز میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا اور بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وحشی فوجوں نے صوبہ قندوز ضلع دشت آرچی کے پٹھان بازار کے علاقے میں واقع ہاشمیہ عمریہ نامی دینی مدرسے پر ایسے وقت شدید بمباری کر دی جب وہاں حفاظ کرام اور دینی علمائے کرام کی دستار بندی کی تقریب ہو رہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…