اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) روس میں ایک مسلمان خاتون نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے، تفصیلات کے مطابق روس کے خود مختار علاقے داغستان سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ مسلمان خاتون سکالر آئینہ غمزاتوف نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے خلاف صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کر دیا ہے، یہ انتخابات مارچ 2018 میں ہوں گے۔ غیر ملکی میڈیا ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ مسلمان خاتون سکالر نے اپنی
فیس بک پوسٹ میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا، ان کے اعلان کے بعد داغستان کے دارالحکومت مخاچکالا کی سڑکوں پر ان کے ہزاروں حامی نکل آئے اور جشن منانا شروع کردیا۔ مسلمان سکالر آئینہ غمزاتوف روس میں مسلمانوں کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس Islam.ru چلا رہی ہیں اور روس میں ان کی کمپنی ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات نکالتی ہے، واضح رہے کہ آئینہ غمزاتوف خود ایک مصنف ہیں اور اسلام پر کئی کتابوں کی حامل ہیں، اس کے علاوہ وہ ایک خیراتی ادارہ بھی چلا رہی ہیں، ان کے شوہر احمد عبداللہ داغستان کے مفتی ہیں۔ آئینہ غمزاتوف کا تعلق صوفی سلسلے سے ہے جس کے لیڈر کو 2012ء میں کوکاسس میں ایک خود کش بمبار نے مار دیا تھا، خاتون مسلمان سکالر کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد روس میں اب یہی موضوع بحث ہے کہ آیا یہ انتخابات جیت پائیں گی یا نہیں، اس سلسلے میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ کسی صورت میں بھی ولادی میر پیوٹن سے انتخابات نہیں جیت سکیں گی، روس میں موجود تمام مسلمان آبادی انہیں ووٹ دے بھی دے تب وہ نہیں جیت سکتیں لیکن داغستان اور جنوبی کوکاسس میں وہ پیوٹن کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے اور یہاں پیوٹن کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، خاتون مسلمان سکالر کے انتخابات میں حصہ لینے پر بعض لوگ تو ان کے حق میں نہیں ہیں لیکن بعض کا کہنا ہے انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اچھا فیصلہ کیا ہے۔



















































