منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بیٹی فاقے سے مرگئی!ظالم گاؤں والوں نے الٹا اسکی ماں کیساتھ ایسا سلوک کیا کہ انسانیت بھی شرما گئی

datetime 22  اکتوبر‬‮  2017 |

رانچی (آئی این پی ) بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ کے ضلع سمڈیگا کے ایک گا ئو ں کریمتی میں فاقے کے باعث موت کا شکار ہو نیوالی 11سالہ بچی سنتوش کماری کی ماں کوئلی دیوی کو گا ئو ں والوں نے تشدد کے بعد اسکے آبائی گھر سے بیدخل کرکے گا ئو ں سے باہر نکال دیا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی لوگوں نے عورت پر گا ئو ں کو بدنام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ڈری سمی کوئلی دیوی نے گا ئوں کے باہر بنے پنچایت گھر میں پناہ لی۔

فوڈ سیکیورٹی معاملا ت پر کام کرنیوالی ایک تنظیم کے ذریعے خبر سامنے آ نے پر ضلع انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی شروع کردی ۔ 11سالہ بچی سنتوش کماری کی ماں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسکی بیٹی کی موت بھوک کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سرکاری ڈیلر نے اسے اس وجہ سے راشن نہیں دیا تھا کیونکہ اسکا راشن کارڈ آدھار کارڈ سے منسلک نہیں تھا۔ کوئلی دیوی نے کہا کہ کسی نے بھی اسکے بچوں کا فاقہ توڑنے کیلئے اس کی مدد نہیں کی۔ادھر سمڈیگا کی ضلع انتظامیہ نے اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی او ردعوی کیا کہ بچی سنتوشی ملیریا میں مبتلا تھی اور اسی وجہ سے اسکی موت ہوئی حالانکہ ریاست کے محکمہ صحت نے اس دعوے کو خارج کردیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ سمڈیگا کے ضلع اسپتال کے عملے نے بھی واضح طور سے کہا ہے کہ سنتوشی کماری بیماری کی حالت میں اسپتال نہیں لائی گئی تھی۔ جھاڑ کھنڈ کے وزیراعلیٰ ر گھوبر داس نے سمڈیگا ضلع کا دورہ کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر منجونا گجنکری سے اس معاملے کی رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایس دکانوں سے راشن کی تقسیم راشن کارڈ یا شناختی کارڈ دکھا کر ہی کرائی جائیگی اور اسکے لئے آدھار کارڈ کی شرط کو واپس لے لیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…