منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ہر سال کتنا کھانا ضائع کر دیا جاتا ہے، جان کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے

datetime 19  اکتوبر‬‮  2017 |

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر کی طرح سعودی عرب” سعودی عرب کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خوراک کے ضیاع کی شرع باقی ممالک سے زیادہ ہے ۔ سعودی محکمہ شماریات نے اپنے تازہ ترین اعدادوشمار میں اہم انکشافات کیے ہیں ۔ سعودی ایف ڈی اے کے چیئرمین ڈاکٹر ہشام الجضعی نے بتایا ہے کہ سعودی عرب” سعودی عرب میں فی کس 427کلو گرام خوراک سالانہ ضائع کی جا رہی ہے ۔انہوں نے ریاض

میں سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب” سعودی عرب میں خوراک کے ضیاع کو قابو کرنے کےلئے قومی حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی ۔ دیگر ملکوں کے مقابلے میں سعودی عرب” سعودی عرب میں خوراک کے ضیاع کا سالانہ تناسب سب سے زیادہ ہو گیا ہے ۔ ماہرین نے سعودی عرب” سعودی عرب کے بارے میں کہا ہے کہ یہ افسوسناک اعدادوشمار ہیں ۔جن پر قابو پانا ضروری ہے ۔واضح رہے یورپی یونین کے رکن ملکوں میں سالانہ جتنی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے، اس میں سے 80 فیصد کے قریب ایسی اشیائے خوراک ہوتی ہیں، جن کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں قومی سطح پر برطانیہ کا ریکارڈ سب سے خراب ہے۔نتائج کے مطابق برطانیہ میں ہر سال اتنی زیادہ خوراک ضائع کر دی جاتی ہے کہ اس کا مجموعی حجم روزانہ اور فی کس بنیادوں پر پھلیوں یا بینز کے ایک ڈبے کے برابر بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں برطانیہ میں اگر ہر شخص ہر روز بینز کا ایک ڈبہ کوڑے میں پھینک دے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں سال بھر میں کتنی زیادہ خوراک کوڑے میں پھینک دی جاتی ہے۔یونین کے رکن ملکوں میں سے جس ایک ریاست میں مقابلتاً سب سے کم خوراک ضائع کی جاتی ہے، وہ رومانیہ ہے۔ لیکن تقابلی بنیادوں پر وہ بھی اتنی زیادہ ہے کہ جیسے رومانیہ میں ہر شہری ہر روز ایک سیب کوڑے میں پھینک دیتا ہو۔اس مطالعے کے نتائج

کے مطابق پوری یورپی یونین میں عام شہری ہر سال مجموعی طور پر قریب 22 ملین ٹن اشیائے خوراک ضائع کر دیتے ہیں۔ محققین کے بقول یورپی شہریوں کو اس بارے میں زیادہ باشعور بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال آنے والی خوراک کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے زیادہ محتاط انداز میں شاپنگ کیسے کر سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف ان کی خوراک کی خریداری پر آنے والی لاگت بہت کم ہو جائے گی بلکہ

کوڑے میں پھینکی جانے والی اشیائے خوراک کے باعث ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔سعودی عرب” سعودی عرب میں سالانہ فی کس 427کلو گرام خوراک کا ضیاع ہو تاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…