جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بچے سکولوں میں تو ہیں لیکن کچھ نہیں سیکھ رہے،اقوام متحدہ

datetime 28  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے چھ بچے اور 20 برس سے کم عمر کے نوجوان سیکھنے کے عمل میں مہارت کی بنیادی سطح تک پہنچنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کے نتائج کو حیرت انگیز قرار دیا جو سیکھنے کے بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں۔تعلیم کے لیے دی جانے والی بین

الاقوامی امداد کی توجہ زیادہ تر خصوصاً افریقہ میں صحرائے صحارا کے زیریں علاقے کے غریب ممالک یا پھر شورش زدہ علاقوں میں سکولوں تک رسائی نہ ہونے پر رہی ہے۔لیکن یونیسکو انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹسٹکس کی تازہ تحقیق نے سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ سکول جانے والے 60 کروڑ سے زیادہ بچوں میں ریاضی اور مطالعے کی بنیادی مہارت نہیں ہے۔تحقیق کے مطابق صحرائے صحارا کے زیریں علاقے میں 88 فیصد بچے اور نوجوان بالغ ہونے تک مطالعے میں بنیادی مہارت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور وسطی اور جنوبی ایشیا میں 81 فیصد افراد خواندگی کی مناسب سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سماجی اور معاشی ترقی کے عزائم آبادی کو خواندہ بنائے اور شمار کیے بغیر پورے نہیں ہو پائیں گے۔شمالی امریکہ اور یورپ میں صرف 14 فیصد جوان افراد اپنی تعلیم اس انتہائی نچلی سطح پر چھوڑتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سکول جانے والے صرف 10 فیصد بچے ایسے ترقی یافتہ خطوں میں رہتے ہیں۔اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ایسی تعلیم حاصل کر رہے تھے جو انھیں کم تنخواہوں والی اور غیر محفوظ نوکریوں کے جال میں پھنسا دیتی ہے۔تحقیق کاروں نے کینیا، تنزانیہ، یوگینڈا اور نکاراگوا کے طالبعلموں

کے بارے میں خبردار کیا کہ وہ آسان جمع تفریق نہیں کر سکتے اور سادہ جملے بھی نہیں پڑھ سکتے۔ان کے مطابق جاپان کے پرائمری سکولوں میں شاگردوں کی بنیادی مہارت 99 فیصد تک پہنچ گئی تھی لیکن مالی میں یہ شرح صرف سات فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق ممالک کے اندر بھی وسیع پیمانے پر خلیج موجود ہے۔ کیمرون میں پرائمری سکول کے اختتام پر صرف پانچ فیصد غریب لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ پاتی ہیں جبکہ

اس کے مقابلے میں امیر گھروں کی 76 فیصد لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں۔عالمی بینک کی تحقیق میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو ایسی خراب کارکرگی کا سبب ہیں۔اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ غریب ممالک میں طالب علم ایسی حالت میں سکول آتے ہیں جس میں سیکھا نہیں جا سکتا۔عالمی بینک کا کہنا تھا کہ کئی طلبا خوراک کی کمی کا شکار اور بیمار ہوتے ہیں۔ محرومیاں اور ان کی گھریلو زندگی میں غربت کا مطلب

یہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے بغیر ہی سکول آنا شروع کر دیا ہے۔ تدریس کے معیار کے بارے میں بھی تحفظات ہیں کہ بہت سے ایسے اساتذہ بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔صحرائے صحارا کے زیریں علاقوں کے چند ممالک میں اساتذہ کا غیر حاضر رہنا بھی ایک مسئلہ تھا جو کہ اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے منسلک ہے۔رپورٹ میں معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کی کمی اور

طلبا کی کامیابیوں کے بارے میں بنیادی معلومات کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…