منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان ایک ایسا ملک ہے اور ا س سے کس طرح پیش آنا چاہئے ؟ مشہور برطانوی سیاستدان کی ڈونلڈ ٹرمپ کو تنبیہ

datetime 7  ستمبر‬‮  2017 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کی اپوزیشن لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے کہاہے کہ پاکستان کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور دوسرے ممالک کو اس پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔۔

بی بی سی اردو کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟ لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے کہا کہ ‘پاکستان ایسا ملک ہے جس کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور اس پر باہر سے تنقید نہیں ہونی چاہیے۔تو کیا پاکستان بحییثت ملک دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وہ کردار ادا کر رہا ہے جو اسے ادا کرنا چاہیے؟اس پر جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنا ہو گا اور اس بات کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔مسٹر کوربن کے بقول صدر ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کی نئی پالیسی افغانستان کے بارے میں ان کی ناکام پالیسی کا تسلسل ہے ٗمیں اس کی حمایت نہیں کرتا، افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی مذاکرات ہیں۔جیریمی کوربن ماضی میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی انسانی حقوق کیلئے کی جانے والی جدوجہد کے حامی رہے ہیں اس سوال کے جواب میں کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم کو روکنے میں آنگ سان سوچی کے کردار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے تو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ مسٹر کوربن کا کہنا تھا کہ میرا ان کیلئے پیغام احترام کا ہے اور یہ کہ آپ جب گھر میں نظر بند تھیں تو ہم نے آپ کی حمایت میں مارچ کیے اور انسانی حقوق کیلئے آپ کی جدوجہد کی حمایت کی تو آپ مہربانی کریں اور روہنگیا عوام کے انسانی حقوق کا بھی اسی طرح خیال رکھیں

اور یہ یقینی بنائیں کہ میانمار میں ان کو شہریت کے پورے حقوق حاصل ہوں ٗانہیں اپنے ہی ملک میں اپنے ہی گھروں سے نہ نکالا جائے۔برطانیہ میں مانچسٹر اور لندن برج پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم اور تیزاب پھینکنے جیسے واقعات میں اضافے کے بعد برطانوی مسلمانوں میں خوف کا احساس بڑھا ہے۔

ان واقعات کی وجوہات اور تدارک سے متعلق ان کا کا کہنا تھا کہ نفرت پر مبنی جرائم چاہے مسلمانوں کے خلاف ہوں، یہودیوں کے خلاف ہوں یا کسی بھی مذہب کے خلاف ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب ایک کمیونٹی کی حیثیت سے ان حملوں کے خلاف متحد ہیں اور یہ حملے کسی مخصوص کمیونٹی پر نہیں بلکہ ہم سب پر کیے گئے ہیں۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…