ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

میانمار کے بعد بھارت نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر قیامت ڈھادی،لرزہ خیز اقدام

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

ینگون (این این آئی)ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو ڈی پورٹ کردیں گے ٗبھارتی حکومت نے اعلان کردیا،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے میانمار کی ریاست رکھائن میں عسکریت پسندوں کے تشدد اور سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے

ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم و ستم پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔بھارتی ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اپنے 3 روزہ دورے کے دوسرے دن میانمار کے دارالحکومت میں واقع صدارتی محل میں مفاہمت کی یادداشت کی تقریب کے بعد اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہم رکھائن میں ہونے والی عسکریت پسندوں کی کارروائی پر میانمار کی تشویش میں شامل ہیں۔اس موقع پر انہوں نے میانمار سے جان بچا کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے سوا لاکھ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مبینہ ریاستی مظالم کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے عالمی دباؤ اور تنقید کا سامنا کرتی نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی ’قیادت‘ کی تعریف کی۔نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس مسئلے کا ایسا حل نکالیں گے جس سے میانمار کا اتحاد اورعلاقائی سالمیت متاثر نہ ہو۔بدھ مت اکثریت کے ملک میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے ملک کیلئے مشکل وقت میں بھارتی وزیراعظم کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔سوچی کا کہنا تھا کہ بھارت اور میانمار مشترکہ طور پر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دہشت گردی ان کی سرزمین یا ہمسایہ ممالک کی سرزمین میں اپنی جڑیں مضبوط نہ کرسکے۔دوسری جانب بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو ڈی پورٹ کردیں گے۔واضح رہے کہ بدھ مت اکثریتی ملک میانمار کی رہنما روہنگیا بحران پر مسلم اکثریتی ممالک کی شدید تنقید کے نشانے پر ہیں۔گذشتہ روز اقوام متحدہ نے ایک بڑے انسانی بحران کے جنم لینے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 25 اگست کو میانمار میں شروع ہونے والے تنازع سے اب تک ایک لاکھ 25 ہزار کے قریب افراد بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ میانمار کی ریاست رکھائن میں شروع ہونے والے تشدد سے گزشتہ 11 روز میں ایک لاکھ 23 ہزار 600 افراد نے سرحد پار کی ہے۔میانمار میں شروع ہونے والے تشدد سے پہلے ہی بنگلہ دیش کی جانب سے ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد 4 لاکھ کے قریب تھی جبکہ حالیہ تنازع کے بعد انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ بڑھ گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…