ہفتہ‬‮ ، 09 مئی‬‮‬‮ 2026 

پا کستان امریکہ کا محتا ج نہیں،مزید دباؤ ڈالا تو امریکہ کے ساتھ کیا ہوگا؟امریکی سی آ ئی اے کے سابق سر براہ نے ٹرمپ کوخطرناک انتباہ کردیا

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

نیویارک(آن لائن) امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند یا کم کرکے اس پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا امریکہ کا پاکستان پر ناجائز دباؤ کا حربہ کارگر نہیں ہوگا البتہ اس دباؤ سے امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے پاکستان کو نہیں کیونکہ پاکستان امریکی امداد سے آزاد ہوچکا ہے،چین جیسے دوست کی امداد اسے حاصل ہے اور امریکہ پاکستان کی فضائی اور زمینی راستوں کا محتاج ہے جس کے تعاون کے بغیر یہ جنگ امریکہ جیت نہیں سکتا۔

سی آئی اے کے سابق قائم مقام سربراہ مائیکل موریل نے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی تقریر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہم کس قدر پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہوجائے تاہم ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں ایک نئی قوت پیدا ہوچکی ہے ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ناممکن ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔انہو ں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح نہیں ہے نہ ہی انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائیگی اور اس کا رول کیا ہوگا جبکہ انہوں نے افغان حکومت کے کردارکی بھی وضاحت نہیں کی ۔انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے لئے اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی افواج کی زمین پر موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں سے امریکی فوجیوں کے تابوت پہنچنے پر امریکہ میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔مائیکل موریل نے مزید کہا کہ طالبان کے اثرورسوخ کو روکنے کیلئے افغان حکومت کی کرپشن کے خاتمے اور افغان فوج کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر ہارے نہ بھی تو جنگ جیت نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ طالبان کی جنگ نظریاتی ہے ایران اور روس کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جبکہ پاکستان کو آمادہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت سے دست کش ہوجائے پاکستان پر دباؤ کارگر نہیں ہوگا

وہ امریکی امداد سے آزاد ہوچکا ہے،چین اسکی ہر قسم کی مدد کر رہا ہے،ماضی میں بھی امریکہ امداد بند کرکے دیکھ چکا ہے لہٰذا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اس کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا،پاکستان کو دباؤ میں لاکر اسے غیر مستحکم کرنا کسی طرح بھی سود مند نہیں ہے،واحد حل سیاسی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں۔

انہوں نے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر جنرل نکلسن کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے بھی افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے،کمانڈر کا بھی خیال ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلہ حل ہوگا،طالبان کو بھی یہ احساس ہے کہ وہ جنگ جیت نہیں سکتے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…