جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

لندن ٹاور میں خوفناک آتشزدگی ، مسلمانوں کا ایسا تاریخی کردار کہ پوری دنیا میں دھوم مچ گئی

datetime 15  جون‬‮  2017 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لندن میں 24 منزلہ رہائشی عمارت گرینفل ٹاور میں آگ لگنے کے بعد بجنے والے فائر الارم سے بہت ہی کم رہائشیوں کی آنکھ کھلی جبکہ سحری کی تیاریوں میں مصروف مسلمان ہی تھے جنہوں نے دیگر لوگوں کو سب سے پہلے آگ لگنے کی خبر دی۔حادثے کے بعد بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچنے والے رہائشیوں نے بتایا کہ ان کی آنکھ فائر الارم کی آواز سے نہیں کھلی بلکہ انہیں عمارت میں رہنے والے دیگر افراد نے دروازہ بجا کر جگایا جو ممکنہ طور پر مسلمان تھے کیوں کہ رات کے اس پہر مسلمان سحری کے لیے جاگ رہے ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسلمانوں نے نہ صرف عمارت میں موجود افراد کو آگ کی اطلاع دی بلکہ انہوں نے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے میں بھی مدد کی۔33سالہ رہائشی آندرے باروسو نے انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ لوگوں کو عمارت سے باہر نکالنے میں مسلم برادری نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے جن لوگوں کو مدد کرتے دیکھا ان میں سے زیادہ تر مسلمان تھے جو لوگوں کو کھانا اور کپڑے بھی فراہم کررہے تھے۔واضح رہے کہ گرینفل ٹاور میں آگ رات کو تقریبا دو سے ڈھائی بجے کے درمیان لگی جب اکثر لوگ سو چکے ہوتے ہیں تاہم چونکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے لہذا مسلمان خاندان سحری کی تیاریوں کی وجہ سے جاگ رہے تھے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل لندن میں 24 منزلہ رہائشی عمارت میں اچانک بھڑکنے والی آگ کے نتیجے میں 12افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جب کہ شاہدین کا کہنا ہے کہ سحری کے لیے اٹھنے والے مسلمانوں نے متعدد افراد کی جان بچائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…