جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

رہائی کے بعدسیف الاسلام قذافی کابھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ ،ایسا اعلان کردیا کہ دنیامیں کھلبلی مچ گئی

datetime 13  جون‬‮  2017 |

تریپولی(مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے رہاہوتے ہی اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ وہ لیبیاکوایک مرتبہ پھرپرامن ملک بنائیں گے کیونکہ میراملک خانہ جنگی سے وجہ سے تباہ ہوگیاہے ۔ایک برطانوی اخبارکے مطابق سیف الاسلام قذافی نے کہاکہ مغرب نے اپنے عزائم کی خاطرلیبیامیں خانہ جنگی کرائی لیکن اب میں ملک میں امن لانے کی بھرپورکوشش کروں گا۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق رہائی کے بعد ابھی تک سیف الاسلام قذافی ابھی تک منظرعام پرنہیں آئے ہیں تاہم ان کایہ بیان سامنے آنے پرخطے اوردنیامیں ہلچل مچ گئی ہے ، سیف الاسلام قذافی کے وکیل خالد الزیدی نے ان کے لیبیا کا امن واپس لانے کے بارے میں عزم سے متعلق میڈیا کو بتایا۔تاہم خالد الزیدی نے ان کی موجودگی کی جگہ کے متعلق بتانے سے انکار کر دیا۔ سیف الاسلام کی رہائی کے بعد سے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں رہ رہے ہیں۔ سیف الاسلام مغرب سے تعلیم یافتہ ہیں اورمعمر قذافی کا جانشین بھی خیال کیا جاتا ہے کیونکہ وہ معمر قذافی کے سب سے زیادہ قریب تھے۔واضح رہے کہ سیف الاسلام قذافی کو2011میں گرفتارکرکے مقدمہ چلایاگیاتھالیکن گزشتہ دنوں ان کورہاکردیاگیاتاہم اب وہ کس جگہ رہ رہے ہیں اس کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں تاہم میڈیارپورٹس کے مطابق وہ لیبیاکے مشرقی علاقے میں رہائش رکھے ہوئے ہیں اوران کی سرگرمیاں بہت ہی محدودہیں ،ان کایہ بیان ان کے وکیل کی وساطت تک میڈیاتک پہنچاہے  میڈٖیارپورٹس کے مطابق گروپ نے 25جون 1972ءکو پیدا ہونے والے سیف الاسلام کو دارالحکومت تریپولی کے جنوب مغرب میں واقع علاقے زنتن میں قید رکھا تھا۔ سیف الاسلام جنرل قذافی کے 8بچوں میں سے دوسرے نمبر پر تھا جبکہ اس کی دوسری بیوی صفیہ کے بطن سے پیدا ہونے والا پہلا بچہ تھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…