جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے ‘‘

datetime 12  جون‬‮  2017 |

طرابلس(این این آئی)لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا ۔ان کی رہائی ایک معافی کے معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ سیف اسلام قذافی کی رہائی سے ملک میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ابو بکر الصدیق بٹالین نے کہاکہ سیف الاسلام قذافی کوگزشتہ روز رہا کر دیا گیا تاہم انھیں عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ سیف اسلام قذافی گذشتہ چھ سالوں سے زنتان نامی دیہی علاقے میں ابو بکر الصدیق بٹالین نامی ایک ملیشیا فورس کی قید میں تھے۔اطلاعات کے مطابق اب وہ مشرقی شہر بیدا میں اپنے رشتے داروں کے ہمراہ رہ رہے ہیں۔ابو بکر الصدیق بٹالین کا کہنا تھاکہ انھوں نے یہ اقدام ملک میں ’عبوری حکومت‘ کی درخواست پر اٹھایا ہے۔ملک کے مشرقی علاقے میں موجود اس حکومت نے پہلے ہی سیف الاسلام کو معافی دے دی تھی تاہم ملک کے مغربی علاقے میں برسرِاقتدار کی ایک ماتحت طرابلس کی عدالت نے ان کی غیر حاضری میں نھیں سزائے موت کی سزا سنا رکھی ہے۔ طرابلس میں موجود حکومت کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی سیف الاسلام قذافی کی رہائی کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں تاہم وہ ہمیشہ ثابت ہوئیں۔اپنے والد کے دور میں باغیوں کے خلاف ہونے والی ناکام کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی پامالی کرنے پر وہ جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔سیف الاسلام قذافی کی عمر 44 برس ہے اور انھیں سنہ 2008 میں لندن سکول آف اکنامکس سے متنازع طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی تھی۔

جب معمر قذافی کو باغیوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تو اس وقت سیف الاسلام بھی ان کے ہمراہ تھے اور انھیں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔انھوں نے سنہ 2000 کے بعد مغربی ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے بھی کوششیں کیں۔ انھیں اپنے والد کے دورِ حکومت کا اصلاح پسند چہرہ کہا جاتا تھا۔سیف اسلام قذافی اپنے والد کے منتخب جانشین ماننے جاتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…