جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

’’سارے عرب ممالک قطر کے خلاف یکجا ‘‘

datetime 7  جون‬‮  2017 |

انقرہ (آئی این پی )ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ قطر کو تنہا چھوڑنا خطے کے ممالک کے لیے بار آور ثابت نہیں ہو گا،خلیجی تعاون کونسل کے ارکان کا باہمی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا ایک بہترین راستہ ہو گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدرو جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رہنما رجب طیب اردگان نے آق پارٹی کے مرکزی دفتر میں سفیروں کے افطار پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ قطر پر پابندیوں کو ایک درست فعل تصور نہیں کرتے۔

باہمی تعاون اور صلاح مشورے کی ہمیشہ سے کہیں زیادہ ضرورت ہونے والے ایک دور میں رونما ہونے والے یہ واقعات خاص کر خطے کے کسی بھی ملک کے لیے بارآور ثابت نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ خلیجی تعاون کونسل کے ارکان کا باہمی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا ایک بہترین راستہ ہو گا ، میں اس دائرہ کار میں قطر کے ٹھنڈے دل سے کا م لیتے ہوئے تعمیری مقف کو اپنانے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اردگان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف موثر جدوجہد کرنے پر مکمل طور پر یقین ہونے والے قطر کو اس طریقے سے تنہا چھوڑنے کی کوشش کرنا کسی بھی مسئلے کے حل میں معاون ثابت نہیں ہو گا۔ ترکی 15 جولائی کی فوجی بغاوت سمیت کٹھن ترین حالات میں ہمیشہ طاقتور سطح پر حمایت و تعاون فراہم کرنے والے تمام تر دوست ملکوں کی طرح قطر کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے عمل کو جاری رکھے گا۔علاوہ ازیں ہم، دیگر ملکوں کے قطر کے ساتھ درپیش تنازعات کے حل کے حوالے سے ہر ممکنہ خدمات کے لیے تیار ہیں۔

شام اور دہشت گردی پر بھی بات کرنے والے صدر اردگان نے داعش کے خاتمے کے لیے ایک دوسری خونی دہشت گرد تنظیم کا سہارا لینے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حرکت کو ہر گز درست تصور نہیں کرتے۔علیحدگی پسند تنظیم PKK کے شام میں بازو پی وائے ڈی کی حمایت و تعاون کرنے والے ملکوں کے خلاف رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ

اس تنظیم کو ‘ملیشیا قوتوں ‘ کا نام دیتے ہوئے ا س سے تعاون کرنے والے تمام تر ممالک مغالطے میں ہیں، جس کا اندازہ ان کو عنقریب ہو جائیگا۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ اس طرز کی خطاں کے بعد میں المناک خطرات کے ساتھ واپس لوٹنے کو بار ہا دہرا یا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت سعودی عرب اور اس کے اتحادی قطر کے خلاف یکجا ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…