جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بات اب صرف110,120تک کی نہیں رہی،پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی ساخت میں تبدیلی،پورا بھارت نشانے پر،امریکہ کے دعوے نے بھارت کے ہوش اُڑادیئے

datetime 5  جون‬‮  2017 |

نیویارک(نیوزڈیسک)بات اب صرف110,120تک کی نہیں رہی،پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی ساخت میں تبدیلی،پورا بھارت نشانے پر،امریکہ کے دعوے نے بھارت کے ہوش اُڑادیئے،تفصیلات کے ماطبق ’’پاکستان ایولونگ نیو کلیئر ویپن انفراسٹر یکچر ‘‘نامی رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی سائنسدانوں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان نے خطرناک جوہری ہتھیاروں کی ساخت میں تبدیلی کر کے امریکی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے،

امریکی سائنس دانوں نے سیٹلائٹ سے حاصل کی جانے والی تصاویر کے بغور مشاہدے کے بعد جاری کی جانے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے پاس 130سے140جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ پاکستان نے امریکہ سے حاصل کئے جانے والے ایف16جنگی جہازوں کی ساخت میں تبدیلی لاتے ہوئے انہیں بھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے قابل بنا لیا ہے جبکہ فرانس سے خریدے جانے والے میراج جنگی طیاروں میں بھی تبدیلی لاتے ہوئے انہیں کروز میزائل کے استعمال کے قابل بنا لیا ہے. امریکی جوہری سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے پاس 130 سے 140تک ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ پاکستان نے اپنے جنگی جہازوں ایف 16 اور فرانس سے خریدے جانے والے میراج جنگی طیاروں کی ساخت تبدیل کرتے ہوئے انہیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال اور کروز میزائل لے جانے کے قابل بنا لیا ہے،بھارت کا زیادہ تر علاقہ پاکستانی میزائلوں کی زد میں ہے.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پا کستانی فضائیہ کے جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل لڑاکا طیاروں کے ایک حصے کو بڑے شہرکے مغرب میں ائیر بیس پر زیر زمین رکھا گیا ہے، جہاں سخت سکیورٹی کے درمیان بہت بڑی انڈر گراؤنڈ سہولیات موجود ہیں، زیر زمین یہ سہولیات ممکنہ طور پر ایک کمانڈ سینٹر سے منسلک ہیں،

تاہم پاکستان کا جوہری ہتھیار چلانے کا نظام کروز اور بیلسٹک میزائل چلانے والا نظام ہی ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے 5گیریڑن یونٹ اور 2ائیر بیس ایسے ہیں جہاں جوہری ہتھیاروں کو رکھا جاتا ہے تاہم پاکستان کی ابھرتی ہوئی جوہری ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے کے لئے 7ائیر بیس ایسے ہیں جن کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔امریکی سائنس دانوں کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل کی جانے والی تصاویر ایسی جوہری فعال میزائل کے لئے استعمال کئے جانے والے گاڑیوں کی موجودگی کے آثار دیتی ہیں، جن کے ذریعہ نہ صرف 100 کلو میٹر سے بھی کم فاصلے والے ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے بلکہ درمیانی فاصلے تک بھی، جن کے تحت بھارت کے زیادہ تر علاقے پاکستانی جوہری میزائلوں کی زَد میں آ سکتے ہیں.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…