جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

پھانسی کے بعد صدام حسین کی لاش کو جب باہر نکالاگیا تومقامی لوگوں نے ایسا کیا، کیا کہ امریکی گارڈز لڑنے مشتعل ہوگئے،عراقی صدر کی موت پر رونے والے امریکی فوجی کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  جون‬‮  2017 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)صدام حسین کی نگرانی پر مامورامریکی فوجی براڈنورپر نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ ہم 12فوجی صدام کے سیل پر تعینات تھے ،ہم ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے تھے ،سب صدام کو اپنا بزرگ خیال کرتے تھے کیونکہ اس کا رویہ بہت اچھا اورمہربان جیساتھا۔انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ امریکہ نے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بہانے اپنے دشمن کی حکومت کاخاتمہ کیا اوراسے پھانسی دی ،

مصنف نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ جب صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو امریکی فوجی بھی رو پڑے تھے کیونکہ وہ صدام حسین کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے حسن سلوک اور رویئے سے اس قدرمتاثر ہوئے تھے کہ اسے بھلا نہ پائے ، انہوں نے بتایا کہ صدا م حسین ہم سے اپنی فیملی کی باتیں بھی شیئر کرتے تھے ،صدام حسین کی پھانسی پر ایڈم روگرسن نامی فوجی نے کہا کہ مجھے بہت دھچکا لگاہے جیسے میں نے کوئی خاندان کا فرد کھودیاہو،میں خود کو قاتل محسوس کرتاہوں،مصنف نے دعویٰ کیا کہ صدام حسین کی لاش کوپھانسی کے بعد جب باہر لایا گیا تو مقامی لوگوں نے ان پر تھوکنا شروع کر دیا جس پر موقع پر موجود صدام کی نگرانی پر مامور امریکی فوجی شدید مشتعل ہوگئے اورایک فوجی نے بڑھ کر تھوکنے والوں پر حملے کی کوشش بھی کی لیکن دیگر فوجیوں نے اسے ایسا نہیں کرنے دیایادرہے کہ ”عراق کے سابق صدر صدام حسین کے پھانسی سے قبل کہے گئے آخری الفاظ“یہ وہ الفاظ ہیں جو آخری لمحات میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کے لبوں پر رواں ہوئے “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں” عراق کے سابق صدر صدام حسین کو 30 دسمبر 2006ءکو عید الاضحیٰ کے دن پھانسی دی گئی حالانکہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں گولی ماری جائے کیونکہ وہ اسے زیادہ قابل عزت موت سمجھتے تھے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…