جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کابل ،مظاہروں میں شدت،احتجاج کرنیوالے نے حیرت انگیز قدم اُٹھالیا

datetime 4  جون‬‮  2017 |

کابل(این این آئی)افغانستان حکومت کے خلاف مظاہرین نے صدارتی محل کے پاس ہی مستقل ڈیرے ڈال دیئے ، کابل میں بھی دھرنے جیسی صورتحال،افغانستان میں حکام نے سلامتی کے شدید خطرے کے پیش نظر لوگوں کو کابل میں جلوس اور مظاہروں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جب کہ رواں ہفتے ہونے والے بم دھماکے کے خلاف لوگوں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔گزشتہ روز بھی صدارتی محل کے قریب

لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن کی اکثریت نے رات بھی یہیں گزاری۔افغان وزارت داخلہ نے نائب وزیر مراد علی مراد نے مظاہرین سے مطالبہ کیا کہ وہ سلامتی کے شدید خطرے کے باعث یہاں سے منتشر ہو جائیں۔ ان کے بقول صدر اشرف غنی نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ جمعہ کو پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کی جائیں۔ادھر کابل میں فوجی حکام نے بھی دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مظاہرین سے منتشر ہونے کا کہا ہے۔کابل بم دھماکے کی جگہ کے قریب ہی احتجاج کرنے والوں نے عارضی خیمے بھی نصب کر لیے ۔حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ مظاہروں سے اجتناب کریں اور ان بقول سکیورٹی فورسز کسی بھی ممکنہ دہشت گرد حملے کو رونما ہونے سے روکنے اور لوگوں کی سلامتی کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ ریلیاں اور جلوس نکالنے سے گریز کریں۔ایک امریکی خبررساں ادارے سے گفتگوکرتے  ہوئے مظاہرے میں شریک ایک خاتون نیلوفر نیلگوں کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو افغان حکومت پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے کیوں کہ وہ حکومت کرنے کی اہل نہیں۔افغانستان سے بیشتر غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلا کے تین سال بعد بھی ملک میں امن و امان کی صورتِ حال خاصی مخدوش ہے اور افغان حکومت کو ملک میں اپنی رِٹ قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ افغانستان کا لگ بھگ 40 فی صد رقبہ یا تو طالبان جنگجووں کے قبضے میں ہے یا اس پر قبضے کے لیے طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تگ و دو جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…