جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمان، یہودی اور عیسائی مل جائیں تو کیا کام ہو جائے گا؟ امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب میں کیا کہا؟

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ عرب اسلامک سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شاہ سلمان نے دہشتگردی کے خلاف مسلم ممالک کو متحد کیا اور سعودی عرب نے دہشتگردی کی کئی کوششیں ناکام بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کی جانب سے امید، محبت اور دوستی کا پیغام دیتا ہوں، امن کیلئے نئی شراکت داریوں کی جانب بڑھنا ہو گا، ہم نے ایسا اتحاد بنایا ہے جس سے ہماری آنے والی نسلیں دہشتگردی سے محفوظ رہیں گی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اپنی اگلی نسلوں کو محفوظ مستقبل دینا چاہتے ہیں، آج سے نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں، امریکہ اپنا نظام زندگی دوسروں پر مسلط نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مسلم دنیا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، مشرق وسطیٰ قدرتی حسن کے باعث بے مثال ہے۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس میں شریک ملکوں کو شراکت داری کی پیشکش کرتے ہیں، تمام مسلم ممالک کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں، کسی پر اپنا نظام زندگی مسلط نہیں کریں گے، اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے، داعش اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیمیں دنیا کیلئے خطرہ ہیں جبکہ امریکہ دنیا میں امن چاہتا ہے، جنگ نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمان ممالک انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے آگے آئیں، ہم دہشتگردوں کو اپنی عبادت گاہوں اور سرزمین سے نکال باہر کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتا، یقینی بنانا ہو گا کہ اس خطے میں دہشتگردوں کی محفوط پناہ گاہیں نہ ہوں، دہشتگردوں کی مالی مدد کے خلاف معاہدہ ہو گیا ہے، یہ جنگ اچھوں اور بروں کے درمیان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اچھائی کی قوتوں کے اتحاد سے ہی برائی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے، ایران جب تک تعاون نہیں کرتا تمام ملک اسے تنہاء کر دیں، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار ایران ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…