جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے باوجود جاپان میں اسحاق ڈار اورارون جیٹلی نے سرپرائزدیدیا

datetime 6  مئی‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یوکوہاما/نئی دہلی (آئی این پی )پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے وزراء خزانہ نے جاپان کے شہر یوکوہاما میں منعقدہ مباحثے میں شرکت کی تاہم دونوں کے درمیان کوئی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ دیکھنے میں نہیں آیا،وزیر خزانہ سینٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ پاکستان ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتا ہے، بین العلاقائی تجارت پر توجہ مرکوزکرنے اور علاقائی روابط کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔

ہفتہ کو بھارتی اخبار ’’انڈین ایکسپریس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے وزراء خزانہ نے جاپان کے شہر یوکوہاما میں منعقدہ مباحثے میں شرکت کی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے 50ویں اجلاس کے موقع پر بزنس نیوز چینل ’’سی این بی سی ‘‘کی طرف سے ایشیا کی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے منعقد ہ مباحثے میں ارون جیٹلی اور اسحاق ڈار چار مقررین میں شامل تھے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایک گھنٹے کی بحث کے دوران ارون جیٹلی پاکستانی ہم منصب سے منہ پھیرے بیٹھے رہے اور اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ دیکھنے میں نہیں آیا۔دونوں ممالک کے وزراء سے حالیہ کشیدگی اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا۔جیٹیلی سے جب صحافیوں نے بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے بات نہیں کی۔جب اسحاق ڈار نے ون بیلٹ ون روڈ کے چین کو باقی ماندہ یوریشیا کے ساتھ ملانے کے منصوبے کی حمایت کی تو اس پر بھارتی وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ بھارت کو خودمختاری کے مسائل کے حوالے سی تجو یز پر شدید تحفظات ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ یہ اصولی طور پر ایک اچھا خیال ہے لیکن خاص طور پر اس پرپوزل جس میں صرف آپ کی طرف سے تجویز پیش کی گئی ہے میرے خیال میں کئی دوسرے مسائل بھی ہیں جن پر بات کرنے کیلئے یہ مناسب فورم نہیں ہے ۔

دوسری طرف اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ پاکستان ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتا ہے ۔خطے کو منسلک کرنے کیلئے اور اس سے آگے کیلئے یہ بہت اہم سمت ہے پاکستان اس کا حصہ ہے اور اس نظریے کی بھرپور حمایت کرتا ہے ۔اسحاق ڈار نے کہاکہ بین العلاقائی تجارت پر توجہ مرکوز کی جانے چاہیے اور علاقائی روابط کو بہتر کیا جائے۔انھوں نے کہاکہ پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں،بھارت اور ایران سے منسلک کرنے کیلئے سی پیک اور سارک جیسے اقدامات بہترین اقدامات ہیں۔بھارتی وزیر خزانہ نے کہاکہ بھارت علاقائی جامع اقتصادی پارٹنر شپ ( آر سی ای پی ) کا حصہ نہیں ہے لیکن دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو تجارت کو روک سکے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…