جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے باوجود جاپان میں اسحاق ڈار اورارون جیٹلی نے سرپرائزدیدیا

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

یوکوہاما/نئی دہلی (آئی این پی )پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے وزراء خزانہ نے جاپان کے شہر یوکوہاما میں منعقدہ مباحثے میں شرکت کی تاہم دونوں کے درمیان کوئی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ دیکھنے میں نہیں آیا،وزیر خزانہ سینٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ پاکستان ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتا ہے، بین العلاقائی تجارت پر توجہ مرکوزکرنے اور علاقائی روابط کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔

ہفتہ کو بھارتی اخبار ’’انڈین ایکسپریس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے وزراء خزانہ نے جاپان کے شہر یوکوہاما میں منعقدہ مباحثے میں شرکت کی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے 50ویں اجلاس کے موقع پر بزنس نیوز چینل ’’سی این بی سی ‘‘کی طرف سے ایشیا کی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے منعقد ہ مباحثے میں ارون جیٹلی اور اسحاق ڈار چار مقررین میں شامل تھے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایک گھنٹے کی بحث کے دوران ارون جیٹلی پاکستانی ہم منصب سے منہ پھیرے بیٹھے رہے اور اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ دیکھنے میں نہیں آیا۔دونوں ممالک کے وزراء سے حالیہ کشیدگی اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا۔جیٹیلی سے جب صحافیوں نے بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے بات نہیں کی۔جب اسحاق ڈار نے ون بیلٹ ون روڈ کے چین کو باقی ماندہ یوریشیا کے ساتھ ملانے کے منصوبے کی حمایت کی تو اس پر بھارتی وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ بھارت کو خودمختاری کے مسائل کے حوالے سی تجو یز پر شدید تحفظات ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ یہ اصولی طور پر ایک اچھا خیال ہے لیکن خاص طور پر اس پرپوزل جس میں صرف آپ کی طرف سے تجویز پیش کی گئی ہے میرے خیال میں کئی دوسرے مسائل بھی ہیں جن پر بات کرنے کیلئے یہ مناسب فورم نہیں ہے ۔

دوسری طرف اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ پاکستان ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتا ہے ۔خطے کو منسلک کرنے کیلئے اور اس سے آگے کیلئے یہ بہت اہم سمت ہے پاکستان اس کا حصہ ہے اور اس نظریے کی بھرپور حمایت کرتا ہے ۔اسحاق ڈار نے کہاکہ بین العلاقائی تجارت پر توجہ مرکوز کی جانے چاہیے اور علاقائی روابط کو بہتر کیا جائے۔انھوں نے کہاکہ پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں،بھارت اور ایران سے منسلک کرنے کیلئے سی پیک اور سارک جیسے اقدامات بہترین اقدامات ہیں۔بھارتی وزیر خزانہ نے کہاکہ بھارت علاقائی جامع اقتصادی پارٹنر شپ ( آر سی ای پی ) کا حصہ نہیں ہے لیکن دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو تجارت کو روک سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…