ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

مودی کو بڑا جھٹکا،اپنے ہی ملک سے مخالفت میں بڑی آوازیں اُٹھ گئیں

datetime 23  اپریل‬‮  2017 |

ممبئی(آئی این پی)بھارت کے معروف ادیبوں اور دانشوروں نے مودی حکومت پرملک میں نفرت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے قوم پرستی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مودی سرکار سوالات سے نفرت کرتی ، پورے ملک میں نفرت کے بیج بو رہی اورنفرت پھیلا رہی ہے ،ہندوستان وہ ملک نہیں رہا جس کا خواب ہمارے باپ دادا نے دیکھا ،یہاں حب الوطنی ثابت کرنے کے نفرت پھیلانے پڑتی ہے ،بھارت میں مسلمانوں اور

دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق دوہرادون میں منعقدہ ادبی فیسٹیول کے آخری روز بھارت کے ممتاز ادیبوں نین تارا سہگل ،نندتا ہکسر ،ہرش مندر اور کرن ناگرکر نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ملک میں نفرت ،قوم پرستی اور تشدد کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار بھارت میں نفرت پھیلا رہی اور نفرت کے ایسے بیج بو رہی ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ممتاز مصنف اور ادیب کرن ناگر کر کا کہنا تھا کہ ملک میں کسی ایک کیمونٹی اور طبقے کو الگ تھلگ کرنا کسی طور پر بھی درست نہیں ہے ،ہندوستان میں ہندو بھی دہشت گردی پھیلانے میں اتنے ہی ملوث ہیں جتنا کوئی دوسرا طبقہ ،مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے لیکن قوم پرستی پر میں لعنت بھیجتا ہوں ۔انہوں نے مودی سرکار کو ملک میں نفرت پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ مودی کی قیر قیادت حکومت ملک میں سوالات اٹھانے والوں سے نفرت کرتی ہے،مودی حکومت ملک میں نفرت ہی پھیلا رہی ہے ،مودی مودی ملک میں نفرت پھیلانے اور نفرت کا بیج بونے میں مصروف ہیں ۔قومی مشاورتی کونسل انڈیا کے سابق رکن اورہندوستان پر لکھی جانے والی درجنوں کتابوں کے مصنف ہرش مندر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قوم پرستی کا شور شرابہ ہے ،یہ ملک کس کا ہے ؟اور کن شرطوں پر حب الوطنی کے لئے کیا کرنا ہوتا

ہے ؟کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت ہندوں کا ملک ہے اور یہاں رہنے کے لئے یا تو آپ کو ہندو ہونا پڑے گا یا پھر ہندوں کے ماتحت ہو کر رہنا پڑے گا ،لیکن یہ خیال سرے سے غلط ہے ۔نہرو اور گاندھی خاندان سے تعلق رکھنے والی بھارت کی ممتاز ادیب نین تارا سہگل نے بھی قوم پرستی پر شدید ہلہ بولتے ہوئے کہا کہ قوم پرستی حماقت کی نشانی ہے ،، جو ملک 70 برسوں سے ایک آزاد ملک ہے، اس میں اچانک قوم پرستی کا نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے، آج اقتدار میں بیٹھے ہوئے وہ لوگ جو قوم پرستی کا نعرہ لگا رہے ہیں، وہ ملک کی آزادی کی تحریک میں کہیں نہیں تھے، تب وہ اپنے بستر میں آرام سے سو رہے تھے، تو اب وہ کس چیز کے لئے شور مچا رہے ہیں؟۔ممتاز کشمیری رہنما افضل گورو شہید کی وکیل اور مشہور مصنفہ نندیتا ہاکسر کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ہمارے لئے شرمناک ہے ،مودی سرکار کی بنیاد نفرت ہے اور وہ اسے ہی پروان چڑھا رہے ہیں ،اگر آج ہم خاموش رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…