جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

شام پرمیزائل حملہ ایران کیلئے سبق ؟امریکہ کیا کرنیوالا ہے؟ سی آئی اے کے سربراہ نے کھلبلی مچادی

datetime 15  اپریل‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی)امریکا کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ شام کے شہر حمص میں گذشتہ ہفتے الشعیرات فوجی اڈے پر کئے گئے میزائل حملے ایران کے لیے سبق ہیں، ایرانی حکومت کو ان حملوں سے ادراک کرنا چاہیے کہ موجودہ امریکی حکومت ماضی کی حکومتوں کے برعکس تہران کے حوالے سے ایک نئی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سی آئی اے چیف مائیک پومپیو نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پرطے پائے معاہدے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اس ضمن میں جوہری سمجھوتے پر ایران کی طرف سے عمل درآمد بارے کوئی بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ بہتر ہے کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے تہران کے جوہری پروگرام بارے ایک رپورٹ پیش کروں اور وہ خود ہی کوئی فیصلہ کریں۔نیویارک میں انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز سینٹر سے میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام بارے معلومات فراہم کررہے ہیں۔ جب ہم اس بات پر مطمئن ہوں گے کہ صدر کے پاس جوہری معاہدے کے بارے میں کافی معلومات پہنچ چکی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایران کہاں تک اس معاہدے کی پابندی اور کہاں تک اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جولائی 2015 کو ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم افزودگی کی مقدار کم کرنے سے اتفاق کیا تھا جس کے بدلے میں عالمی سطح پر ایران پر عاید اقتصادی پابندیاں بہ تدریج کم کرنے کا اعلان کیا گیا۔مائیک پومپیو نے کہا کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد ہمیں ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے پربھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ہمیں ایران کے یورینیم افزودگی کے اعلانیہ اور خفیہ مراکز کا علم ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کی کس حد تک اجازت حاصل ہے۔مائیک پومپیو نے کہا کہ بشارالاسد نے اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے سنگین جرم کیا اور کیمیائی اسلحے کے استعمال کے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔

کیمیائی حملے کے جواب میں شام میں امریکی میزائل حملہ ایک درست اقدام تھا۔ یہ اقدام ایران کے لیے بھی سبق ہے۔ ایرانی حکومت کو ادراک کرنا چاہیے کہ موجودہ امریکی حکومت ماضی کی حکومتوں کی نسبت مختلف پالیسی پرعمل پیرا ہے۔مسٹر پومپیو نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ، عراق اور یمنی عسکری گروپوں کے ذریعے عرب خطے میں ایرانی اثرو نفوذ بڑھانے کی ایرانی پالیسی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ایران کی معاندانہ سرگرمیاں جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لیے کسی کارروائی کی ضرورت پڑی تو خلیجی اور یورپی ممالک امریکا کے ساتھ تعاون کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…