جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لندن حملہ خالد مسعود نامی برطانوی شہری نے کیا،میٹروپولیٹن پولیس

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

لندن(این این آئی)لندن دہشت گردانہ حملے میں ملوث شخص کی نشاندہی کر دی گئی ۔ باون سالہ خالد مسعود برطانیہ ہی میں پیدا ہوا تھا۔ اس سے قبل شدت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے لندن حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس نے لندن میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے شخص کی نشاندہی

کر دی ہے۔ برٹش پارلیمنٹ کے سامنے خنجر حملے میں ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے اور ویسٹ منسٹر برج پر عام لوگوں پر گاڑی چڑھا کر دو افراد کو ہلاک اور چالیس سے زائد لوگوں کو زخمی کرنے والا ایک ہی حملہ آور تھا۔پولیس کے مطابق 52سالہ خالد مسعود تھا، لندن کے جنوب مشرق میں واقع کینٹ نامی علاقے میں پیدا ہوا اور وہ برطانوی شہری تھا۔ پولیس کے مطابق خالد مسعود ماضی میں بھی مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باعث پولیس کی نظروں میں تھا، تاہم اس سے پہلے وہ کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث نہیں رہا تھا۔برطانوی پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابقپولیس کی کسی بھی جاری تفتیش میں مسعود کا نام شامل نہیں تھا اور اس سے قبل خفیہ اداروں کو بھی اس کے دہشت گردانہ حملہ کرنے کے ارادے کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں تھیں۔اسی بیان میں مزید بتایا گیا کہ ماضی میں متعدد جرائم میں ملوث ہونے کے باعث پولیس اسے جانتی تھی۔ ان جرائم

میں جارحیت اور شدید جسمانی نقصان پہنچانے، غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور نقص عامہ جیسے جرائم شامل ہیں۔پہلی مرتبہ سن 1983 میں خالد مسعود کو مجرمانہ اقدام کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا جب کہ آخری بار اسے سن 2003 کے اواخر میں ممنوعہ خنجر رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔خالد

مسعود نے اس حملے کے لیے استعمال کی جانے والی کار برطانوی شہر برمنگھم سے گزشتہ ہفتے کرائے پر حاصل کی تھی۔ انٹرپرائز نامی کار کمپنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل آج لندن اور برمنگھم میں پولیس نے متعدد چھاپے مار کر آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…