منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

اسلام کو دہشتگردی کا منبع کہنے والوں کو جرمن چانسلرانجیلا میرکل کا منہ توڑ جواب

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

میونخ(آئی این پی) جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلم ممالک کی شمولیت ناگزیر ہے،اسلام کو دہشتگردی کا منبع نہیں کہہ سکتے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں جرمن چانسلر نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ اسلام دہشت گردی کا منبع و ماخد ہے بلکہ وہ سمجھتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلم ممالک کو بھی شامل کرنا چاہیے۔میرکل نے مسلم

عمائدین پر بھی زور دیا کہ وہ واضح الفاظ میں پر امن اسلام اور اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کی نشاندہی کریں۔جرمن چانسلر نے کہا کہ یورپ کے روس کے ساتھ تعلقات انتہائی مشکل ہیں تاہم دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مل کر کام کیا جاسکتا ہے ۔میرکل نے کہا کہ روس کو 2015 میں ہونے والے منسک معاہدے کی پاسداری کرنی ہوگی جس کے تحت یوکرینی فوج اور روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہوا تھا۔جرمن چانسلر انجیلا میرکل کا کہنا ہے کہ یورپ شدت پسندی کے خلاف جنگ تنہا نہیں لڑ سکا، اس لڑائی میں یورپ کو امریکا کی عسکری طاقت کی بھی ضرورت ہے۔’میونخ سیکیورٹی کانفرنس ‘سے خطاب میں جرمن چانسلر نے امریکا اور دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی تنظیموں جیسے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور نیٹو کی حمایت اور تعاون کریں۔سیکیورٹی کانفرنس میں امریکی نائب صدر مائیک پینس بھی موجود تھے جنہوں نے شرکا کو یقین دلایا کہ امریکا مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور یورپ کے ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکی نائب صد رنے کہا کہ ‘میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ امریکا مکمل طور پر نیٹو کی حمایت کرتا ہے اور اس دفاعی اتحاد کے حوالے سے امریکا اپنی ذمہ داروں سے واقف ہے اور انہیں پورا کرنے کے لیے پر عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کی جدوجہد ہماری جدوجہد ہے اور آپ کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔

اس دوران امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ نیٹو ارکان کو سکیورٹی کے اخراجات کا ایک منصفانہ حصہ اپنے ذمے لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کیے گئے وعدوں کے مطابق رکن ممالک کو اپنی ملکی پیداوار کا 2 فیصد حصہ نیٹو پر خرچ کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس جمعہ، 17 فروری سے شروع ہو چکی ہے، اس میں کئی ملکوں کے سربراہ اور وزرائے خارجہ شریک ہیں جبکہ امریکا کا اعلی سطح کا وفد نائب صدر مائیک پینس کی قیادت میں میونخ پہنچا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…