منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

سنگاپورمیں لرزہ خیز واقعہ،پاکستانی نژاد شہریوں نے اپنے ہی ہم وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے

datetime 17  فروری‬‮  2017 |

سنگاپور(این این آئی) سنگا پور میں دو پاکستانیوں کو جوئے کے تنازع پر اپنے ایک ہم وطن کو قتل کرکے لاش کے ٹکرے کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سنگاپور کی ایک عدالت نے سزائے موت سنادی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سڑکوں پر ٹشو فروخت کرنے والے 45 سالہ رشید محمد اور 28 سالہ رمضان رضوان کو اپنے ایک پاکستانی ساتھی محمد نور کو 2014 میں اپنے گھر میں قتل کے بعد لاش کو آری سے کاٹنے کا مجرم قرار دیا

گیا۔59 سالہ مقتول محمد نور کے جسمانی اعضاء دو الگ الگ بیگز میں شہر سے ملے تھے۔ہائی کورٹ کے جج چو ہین ٹیک نے اس کیس کا فیصلے سنایا۔رشید اور رمضان مئی 2014 میں سنگاپور آئے تھے اور گزر اوقات کیلئے ٹشو پیکٹس فروخت کیا کرتے تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق تنازع کا آغاز اْس وقت ہوا، جب دونوں نے جوے میں ہاری گئی 11 سو سنگاپوری ڈالر (776 ڈالرز) کی رقم مقتول سے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔دستاویزات کے مطابق مقتول کا گلا گھونٹنے کے بعد دونوں نے اس کے جسم کے ٹکرے کرنے کیلئے آری خریدی، ایک بیگ میں موجود مقتول کا جسم ایک 81 سالہ شخص نے دیکھا ٗ گرفتاری کے بعد رشید نے پولیس کو دوسرے بیگ کی نشاندہی کی جس میں مقتول کی ٹانگیں موجود تھیں۔ان کے وکیل نے عدالت میں ایک بیگ میں موجود مقتول کا جسم ایک 81 سالہ شخص نے دیکھا ٗ گرفتاری کے بعد رشید نے پولیس کو دوسرے بیگ کی نشاندہی کی جس میں مقتول کی ٹانگیں موجود تھیں۔ان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ ان کے موکل قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔دلائل دیئے کہ ان کے موکل قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔رشید اور رمضان کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے ٗ رشید کے 8 ٗ رمضان کے 3 بچے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…