بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

قبل از وقت ٹرمپ کے اقتدار کا خاتمہ،بڑا فیصلہ سنادیاگیا

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی)امریکی ماہرین نفسیات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ذہنی مریض اورصدارت کیلئے نااہل قرار دیدیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے 35 ماہرینِ نفسیات اورمعالجین کا ایک مشترکہ خط نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی مریض اور صدارت کے لیے نااہل ہیں۔یہ خط 9 فروری کے روز اسی اخبار میں سیاسی تجزیہ نگارچارلس ایم بلو کے ایک کالم کی تائید میں لکھا گیا ہے جس

میں چارلس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر نہیں بلکہ فاتح بننا چاہتے ہیں۔13 فروی کو شائع شدہ اس خط میں 35 امریکی نفسیاتی ماہرین اورمعالجین نے یہی خیالات آگے بڑھاتے ہوئے مشترکہ موقف پیش کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے الفاظ اورطرزِ عمل، دونوں سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ دوسروں کیلیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے اور ان میں اختلافِ رائے برداشت کرنے کی بالکل بھی صلاحیت نہیں۔ علاوہ ازیں وہ اپنے مخالفین کا منہ بند کرنے اورانہیں کچلنے کیلیے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ رہتے ہیں جو نفسیاتی طور پر بیمار ہونے کی علامات میں شامل ہیں۔علاوہ ازیں وہ اپنے مخالفین کا منہ بند کرنے اورانہیں کچلنے کیلیے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ رہتے ہیں جو نفسیاتی طور پر بیمار ہونے کی علامات میں شامل ہیں .اس خط میں امریکی نفسیاتی ماہرین نے امریکن سائیکیٹرک ایسوسی ایشن کے 1973 میں منظورکردہ رضاکارانہ گولڈواٹررول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس اصول کی وجہ سے امریکی نفسیاتی معالجین کی سب سے بڑی انجمن نے مشہور شخصیات کی دماغی حالت کے بارے میں خاموش رہنے کی پالیسی پر عمل جاری رکھا ہوا ہے لیکن اس نازک وقت پر کچھ نہ کہنا امریکہ کیلیے بدترین نقصان کی وجہ بن سکتا ہے۔ان تمام شواہد کومدنظر رکھتے ہوئے اس خط کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی خراب دماغی حالت کی بنا پر امریکی صدر رہنے کیلیے نااہل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…