بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کو ایک اور بڑی شکست،امریکی کورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )امریکی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر عائد سفری پابندیاں بحال کرنے کی اپیل مسترد کر دی ۔اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا سفری پابندیوں والا انتظامی حکم نامہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک اس مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔

امریکی میڈیا کے مطابق عدالت نے وائٹ ہاؤ س اور ریاستوں کو پیر تک کا وقت دیا ہے کہ وہ اس بارے میں مزید دلائل پیش کریں۔ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل کا مقصد جمعے کو دیے جانے والے فیصلے کو پلٹنا تھا جسے ریاست واشنگٹن کے ایک وفاقی جج نے صادر کیا تھا۔ریاستی وکلا کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ غیر آئینی اور تعصبانہ ہے۔ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹل کے فیڈرل جج نے حکومتی وکلا کا دعوی مسترد کر دیا کہ ریاستوں کے پاس صدر ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے کو چیلنج کرنے کا اختیار نہیں ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق محکمہ انصاف نے اپنی دلیل میں کہا کسی بیرونی شخص یا گروہ کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا صدر کے پاس ایسا اختیار ہے جسے نظر ثانی کی ضرورت نہیں اور یہ کہ جمعے کو جج جیمز روبارٹ نے سیئیٹل میں جو فیصلہ سنایا تھا وہ بہت عمومی تھا۔محکمے نے یہ بھی دلیل پیش کی کہ سیئیٹل کے جج کا فیصلہ بوسٹن کے ایک وفاقی جج کے فیصلے سے بھی متصادم ہے جنھوں نے مسٹر ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آرڈر کو برقرار رکھا ہے۔اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے انتظامی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عراق، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے کوئی بھی شخص 90 دنوں تک امریکہ نہیں آ سکے گا۔

اس فیصلے کے خلاف امریکہ اور امریکہ کے باہر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور امریکی ہوائی اڈوں پر افراتفری نظر آئی۔واشنگٹن، میامی اور امریکہ کے دوسرے شہروں کے علاوہ یورپ کے بعض شہروں میں بھی گذشتہ روز سنیچر کو ٹرمپ کے اعلان کے بعد مظاہرے ہوئے۔لندن میں ہزاروں افراد نے ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے جبکہ پیرس، برلن، سٹاک ہوم اور بارسلونا میں بھی مظاہرے کیے گئے۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ان مظاہروں کی مخالفت میں مظاہرے کیے۔صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد تقریبا 60 ہزار ویزے منسوخ کر دیے گئے تھے لیکن جج جیمز روبارٹ کے عبوری فیصلے کی رو سے فوری طور پر ملک گیر سطح پر اس حکم نامے کو معطل کر دیا۔گذشتہ روز صدر ٹرمپ نے جج روبارٹ کے فیصلے کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے پابندی کو لاگو کرنے کا عزم کیا تھا۔خیال رہے کہ سیئٹل کے ایک جج نے جمعے کو سات مسلم اکثریت والے ممالک کے لوگوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔اسی حکم کے تحت امریکہ میں پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو 120 دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی شامی پناہ گزینوں کے امریکہ آنے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔لیکن جج کے فیصلے کے بعد امریکی کسٹمز کے حکام نے امریکی فضائی کمپنیوں سے کہا ہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے، وہ پابندی سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو امریکہ لا سکتے ہیں۔

اس فیصلے کے بعد بہت سی فضائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان سات ملکوں سے مسافروں کو امریکہ لے جانے کے لیے پروازیں شروع کر دی ہیں۔تاہم ٹرمپ انتظامیہ اگر اس فیصلے کے خلاف ہنگامی حکمِ امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ سلسلہ پھر رک سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…