پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

سعودی عرب سمیت خلیجی عرب ریاستوں میں ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے پر حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

datetime 25  جنوری‬‮  2017 |

ریاض(این این آئی)خلیجی عرب ریاستیں وائٹ ہاؤس کا سربراہ بدلنے پر کھلم کھلا تو نہیں لیکن خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطے میں اْن کے حریف ملک ایران کا مخالف ہونا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ عرب خلیجی ریاستیں ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کا سربراہ بننے سے خوش نظر آتی ہیں،

تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا بھر میں جہاں ایک طرف بہت سے ممالک نے ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کے خطاب کو تشویش سے سنا وہیں خلیجی عرب ریاستیں نئے امریکی صدر کی جانب سے کافی پْرامید نظر آتی ہیں۔ خلیجی حکمران ٹرمپ میں ایک ایسا مضبوط صدر دیکھ رہے ہیں جو خطے میں امریکا کے کردار کے حوالے سے اس کے اسٹریٹیجک رول کو مزید مستحکم کرے گا۔خاص طور پر سعودی عرب باراک اوباما کی رخصتی سے مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ غالبا سعودی عرب کے نزدیک 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام کا اثر کم کرنے کے لیے معاہدے کو ریاض کے ساتھ امریکی اتحاد بنانے کے مقابلے میں اوباما حکومت کا زیادہ اہمیت دینا ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلق مشرقِ وسطی کی سلامتی کے ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے تاہم اس تعلق کو سن 2011 میں ’عرب بہار‘ کے بعد سے ایران کی طرف امریکی جھکاؤ کے بعد نقصان پہنچا ۔ امریکا اور خلیجی ممالک کے مابین شام کے مسئلے پر اْس وقت سے کشیدگی ہے جب سابق صدر باراک اوباما نے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف بر سرِ پیکار باغیوں کو امداد دینے کے عرب ممالک کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

صدر بشار الاسد ایران اور روس کی حمایت کے باعث مضبوط ہوئے۔ ایک تجربہ کار سعودی سیاسی مبصر عبدالرحمان الراشد کے مطابق ٹرمپ اس قسم کے انسان دکھائی نہیں دیتے جو ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کی جانب جھکاؤ ظاہر کریں گے۔

چند خلیجی عربوں کے خیال میں ریاض اور تہران میں جاری اثر و رسوخ کی جنگ کو، جو شام، یمن اور بحرین میں لڑی جا رہی ہے، اوباما کی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ترجیح کو خوش آمدید نہیں کہا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…