اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

خامنہ ای کو اپنے اعمال کی جواب دہی کا وقت آگیا،امریکہ کا اعلان

datetime 15  جنوری‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی) امریکی کانگریس میں پاسداران انقلاب اور اخوان پرپابندیوں کے نئے بل پیش کردیئے گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی کانگریس میں ری پبلیکن رکن ٹیڈ کروز، ایوان نمائندگان میں قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین مائیکل ماکویل اور سینٹر ماریو بالارٹ نے کانگریس میں دو نئے مسودہ ہائے قانون پیش کیے ہیں جن میں محکمہ خارجہ کو ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون کے ٹرائل کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان قانونی مسودوں میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون بنیاد پرست اور تشدد پر اکسانے والے گروپ ہیں۔ لہذا انہیں دہشت گرد قرار دے کران پر پابندیاں عاید کی جائیں۔

کانگریس میں پیش کردہ مسودہ قانون کی تفصیلات سینٹر ٹیڈ کروز نے اپنی اپنی ویب سائیٹ پر بھی پوسٹ کی ہیں۔ ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون اور پاسداران انقلاب مغرب میں قتل وغارت گری جیسے جرائم کو فروغ دینے میں ملوث رہے ہیں۔ امریکا کو ان دونوں کے خلاف ہرقسم کی قانونی چارہ جوئی کرنے، ان کا ناطقہ بند کرنے، ان کے مالی سوتے خشک کرکے دہشت گردی کا ذریعہ بننے والوں کا احتساب کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے۔امریکی سینٹر نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد ادارہ اور فوج قرار دینے کی سفارش کی ہے جب کہ سینٹر ماریو بالارٹ نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ امریکا میں بنیاد پرست سیاسی اسلام کے خلاف قانونی ترامیم کے لیے اقدامات کا آغاز ہوا ہے۔ توقع ہے کہ ان قانونی اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے عناصر کی جڑیں کاٹنے میں آسانی ہوگی۔

امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے الزام عاید کیا کہ سبکدوش ہونے والے صدر باراک اوباما کے دور میں دنیا بھر میں بنیاد پرست اسلام پسند گروپوں کو تقویت حاصل کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ صدر باراک اوباما امریکی قومی سلامتی اور امریکی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بنیاد پرست عناصر اور گروپوں کو سراٹھانے کا موقع ملتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور ایرانی پاسداران انقلاب کے جرائم سے پہلو تہی اختیار کیے جانے کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عالمی تنازعات کے حل کے لیے پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون کے ساتھ نرمی برتنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کو ان کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں اپنے اعمال کا حساب دینے کا موقع دیا جائے۔

سینیٹر ٹیڈ کروز کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا بنیادی کردار اور ذمہ داری ایرانی فوج کو مضبوط بناتے ہوئے اسے دہشت گردی کے لیے تیار کرنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی وزارت خزانہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام القدس یونٹوں کو دہشت گرد گروپ قرار دے چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…