جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

’’راحیل شریف کے عہدہ سنبھالتے ہی عرب اخبارات میں 39ممالک کے اتحاد کا نام تبدیل ‘‘ نیا نام کیا رکھ دیا گیا ؟ جان کر آپ بھی فخر کریں گے

datetime 10  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جنرل راحیل شریف جب پاکستان کے آرمی چیف تھے تب بھی پاکستان کا بچہ بچہ ان کا دیوانہ تھا اور آج جب انہوں نے 39ممالک کی سربراہی قبول کی ہے تو بھی ان کے چرچے زبان زدعام ہیں ۔تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں 39ممالک پر مشتمل سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی

پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپی گئی تو پہلی بار ’’مسلم نیٹو‘‘ کی اصطلاح بھی سامنے آ گئی ہے۔ معروف برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے ’’پاکستان کے ریٹائرڈآرمی چیف نے ’مسلم نیٹو‘ کا پہلا کمانڈر بننے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو تین سال تک پاکستانی فوج کی شاندار سربراہی پر ڈھیروں خراج تحسین پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن سعودی سربراہی میں قائم ہونے والے فوجی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے پر کچھ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف قائم کئے گئے سعودی اتحاد میں 39 مسلم ممالک شامل ہیں البتہ عراق اور ایران اس کا حصہ نہیں ہیں، جس پر کچھ تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اتحاد میں سنی ممالک کی اکثریت کی وجہ سے اس کے ایران مخالف ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ ایسی صورت میں جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی جانب سے اس اتحاد کی سربراہی قبول کرنے پر پاکستان کی جانبداری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ جب 2015ء میں سعودی اتحاد کی بنیاد رکھی گئی اور سعودی دارالحکومت میں اس کا ہیڈکوارٹر قائم کیا گیا تو اسی وقت سے ایران کی حمایت اسے حاصل نہیں ہے۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…