اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

1995ء اور 2002ء کے بعدایک اورخطرے نے سِر اُٹھالیا،سائنسدانوں نے خبردار کردیا

datetime 6  جنوری‬‮  2017 |

لندن (آئی این پی ) لارسن سی برفانی تودہ کے ٹوٹنے کے بعد اینٹارکٹیکا کے شمالی خطے کی ساری برف اگر سمندروں میں شامل ہو جائے تو دنیا بھر میں سطح سمندر میں دس میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے،سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں موجود دنیا کے دس بڑے برفانی تودوں میں سے ایک تودہ ٹوٹ کر الگ ہونے کے قریب ہے۔لارسن سی نامی تودے میں طویل عرصے سے موجود شگاف دسمبر کے مہینے میں اچانک بڑھ گیا اور اب صرف 20 کلومیٹر لمبا برف کا ٹکڑا اِس پانچ ہزار کلومیٹر لمبے تودے کو برفانی خطے سے جوڑ کے رکھا ہوا ہے۔لارسن سی برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی حصے میں واقع ہے اور اس کی موٹائی 350 میٹر ہے۔سوانزی میں موجود محققین کے مطابق اگر یہ برفانی تودہ ٹوٹ جاتا ہے تو مستقبل میں پورے شمالی خطے کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔

لارسن سی میں موجود شگاف پر سائنسدان ایک طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 1995 میں لارسن اے اور پھر 2002 میں لارسن بی بھی اسی طرح انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی خطے سے ٹوٹ کر الگ ہو گئے تھے۔سائنسدانوں کے مطابق دسمبر میں لارسن سی کا شگاف اچانک سے بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔سوانزی یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر ایڈریئن لکمین نے بتایا کہ اگر یہ برفانی تودہ اگلے چند مہینوں میں ٹوٹ کر الگ نہیں ہو جاتا تو میں بہت حیران ہوں گا۔سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ شگاف اور برفانی تودے کا ٹوٹنا ایک جغرافیائی عمل ہے اور اس کا ماحولیاتی تبدیلی سے بظاہر تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ شاید ماحولیاتی حرارت بڑھنے کے وجہ سے لارسن سی کے شگاف کے بڑھنے کے عمل میں تیزی آئی ہو لیکن اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔سائنسدانوں کے اندازوں کے مطابق لارسن سی برفانی تودہ کے ٹوٹنے کے بعد اینٹارکٹیکا کے شمالی خطے کی ساری برف اگر سمندروں میں شامل ہو جائے تو دنیا بھر میں سطح سمندر میں دس میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس بات کا مستقبلِ قریب میں ہونا ممکن نہیں ہے۔ڈاکٹر ایڈریئن کہتے ہیں کہ ‘برفانی خطے کے ٹوٹنے کے ممکنہ نتائج سامنے آنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ یہ بس ایک بہت بڑا جغرافیائی عمل ہے جو کہ انٹارکٹیکا کے لینڈسکیپ کو تبدیل کر دے گا۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…