ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

1995ء اور 2002ء کے بعدایک اورخطرے نے سِر اُٹھالیا،سائنسدانوں نے خبردار کردیا

datetime 6  جنوری‬‮  2017 |

لندن (آئی این پی ) لارسن سی برفانی تودہ کے ٹوٹنے کے بعد اینٹارکٹیکا کے شمالی خطے کی ساری برف اگر سمندروں میں شامل ہو جائے تو دنیا بھر میں سطح سمندر میں دس میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے،سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں موجود دنیا کے دس بڑے برفانی تودوں میں سے ایک تودہ ٹوٹ کر الگ ہونے کے قریب ہے۔لارسن سی نامی تودے میں طویل عرصے سے موجود شگاف دسمبر کے مہینے میں اچانک بڑھ گیا اور اب صرف 20 کلومیٹر لمبا برف کا ٹکڑا اِس پانچ ہزار کلومیٹر لمبے تودے کو برفانی خطے سے جوڑ کے رکھا ہوا ہے۔لارسن سی برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی حصے میں واقع ہے اور اس کی موٹائی 350 میٹر ہے۔سوانزی میں موجود محققین کے مطابق اگر یہ برفانی تودہ ٹوٹ جاتا ہے تو مستقبل میں پورے شمالی خطے کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔

لارسن سی میں موجود شگاف پر سائنسدان ایک طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 1995 میں لارسن اے اور پھر 2002 میں لارسن بی بھی اسی طرح انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی خطے سے ٹوٹ کر الگ ہو گئے تھے۔سائنسدانوں کے مطابق دسمبر میں لارسن سی کا شگاف اچانک سے بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔سوانزی یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر ایڈریئن لکمین نے بتایا کہ اگر یہ برفانی تودہ اگلے چند مہینوں میں ٹوٹ کر الگ نہیں ہو جاتا تو میں بہت حیران ہوں گا۔سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ شگاف اور برفانی تودے کا ٹوٹنا ایک جغرافیائی عمل ہے اور اس کا ماحولیاتی تبدیلی سے بظاہر تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ شاید ماحولیاتی حرارت بڑھنے کے وجہ سے لارسن سی کے شگاف کے بڑھنے کے عمل میں تیزی آئی ہو لیکن اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔سائنسدانوں کے اندازوں کے مطابق لارسن سی برفانی تودہ کے ٹوٹنے کے بعد اینٹارکٹیکا کے شمالی خطے کی ساری برف اگر سمندروں میں شامل ہو جائے تو دنیا بھر میں سطح سمندر میں دس میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس بات کا مستقبلِ قریب میں ہونا ممکن نہیں ہے۔ڈاکٹر ایڈریئن کہتے ہیں کہ ‘برفانی خطے کے ٹوٹنے کے ممکنہ نتائج سامنے آنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ یہ بس ایک بہت بڑا جغرافیائی عمل ہے جو کہ انٹارکٹیکا کے لینڈسکیپ کو تبدیل کر دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…