بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

کویت میں عدالت کا کم سن بچی کے قاتل والدین کو سزائے موت کا حکم

datetime 2  جنوری‬‮  2017 |

کویت سٹی(آئی این پی )کویت میں ایک عدالت نے ایک جوڑے کو اپنی 3 سالہ بچی کو اذیتیں دے کر قتل کرنے کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیدیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابقکویت میں ایک عدالت نے ایک جوڑے کو اپنی 3 سالہ بچی کو اذیتیں دے کر قتل کرنے کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے ۔استغاثہ کے مطابق قاتل ماں باپ دونوں کویتی ہیں۔انھیں مئی میں اپنی بچی کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔وہ اپنی بچی کو اس دم توڑنے تک مارتے پیٹتے رہے تھے اور پھر انھوں نے اس کی لاش کو ایک ہفتے تک فریزر میں چھپائے رکھا تھا۔عدالتی بیان میں صرف فیصلے کا متن جاری کیا گیا ہے لیکن وقوعے کے وقت منظرعام پر آنے والی رپورٹس کے مطابق دونوں میاں بیوی کو اپنی بچی کے مسلسل رونے چلانے کا غصہ تھا اور انھوں نے اس کو مار پیٹ کر ہمیشہ ہی کے لیے چپ کرا دیا تھا۔کویتی وزارت داخلہ کے مطابق بچی کے کندھوں اور ٹانگوں پر جلنے کے زخم پائے گئے تھے۔

اس کے بعد پولیس نے چھبیس سالہ باپ سالم بوہان اور تیئیس سالہ والدہ عامرہ حسین کے خلاف قتل کی فرد الزام عاید کی تھی اور پھر ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا۔وزارت کا کہنا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی نشے کے عادی تھے۔ماتحت عدالت نے سوموار کے روز انھیں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے لیکن یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔دونوں مجرمان اپیل عدالت اور سپریم کورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔واضح رہے کہ کویت میں سزائے موت کے مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جاتا۔اس خلیجی ریاست میں 2007 سے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے اور اس وقت دسیوں مجرم پھانسی کے منتظر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…