اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

جانیئے قذافی کا قاتل اب کیا کہتاہے؟

datetime 31  دسمبر‬‮  2016 |

لندن(نیوزڈیسک) موت کے خوف نے صحافی کی راتوں کی نیندیں حرام کردیں،جب لیبیا میں باغیوں نے معمر قذافی کی موت کاجشن منایا تو ان کے سونے کا پانی چڑھی پستول فتح کی علامت کے طورپر سامنے آئی جو کہ تمام مفتوحین کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی۔بین الاقوامی میڈیا نے اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ جن جنگجوﺅں نے کرنل قذافی کو پکڑنے کے بعد انہیں ہلاک کیا تھا ، ایک تصویر میں ان سب کے ہاتھوں میں گھومتی سنہرے رنگ کی پستول واضح طورپر دکھائی گئی تھی۔کرنل قذافی کی یہ ذاتی پستول باغیوں کی فتح اور لیبیا میں اقتدار کی منتقلی کی ایک علامت بن گئی۔پستول کی تلاش میں صحافی گبرئیل آخر کار محمد البیبی نامی جنگجو سے جاملے ،جس کا کہنا تھا کہ اسے یہ پستول ایک جگہ گری ہوئی ملی جہاں قریب ہی کرنل قذافی کو گرفتار کیاگیا تھا۔اس وقت محمد البیبی کے پاس وہ پستول دیکھ کر دیگر باغیوں کو یہ لگا کہ اس نے ہی کرنل قذافی کو ہلاک کیاہے ،وہ اس انقلاب کا حادثاتی ہیرو بن گیا۔البیبی نے بتایاکہ وہ پستول اب بھی اس کے پاس ہے ،یہ ایک نائن ایم ایم براﺅزنگ دستی پستول ہے جس پر سونے سے کام کیاگیاہے اور اس پر پھول کندہ ہیں۔محمد البیبی کے مطابق قذافی کے وفاداروں کی جانب سے اسے قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ”مہربانی کرکے دنیا کو بتائیں کہ جس نے قذافی کو مارا وہ میں نہیں تھا”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…