ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

مجھے پاکستان سے قرآن پاک کا تحفہ آیا جسے پڑھ کر میں نے کیا سیکھا ؟ بھارتی شاعرہ کا انٹرویو

datetime 19  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اس وقت دنیا میں 4بڑے مذاہب ہیں جنہیں ماننے والوں کو دنیا اس وقت مسیحی ، یہودی ، ہندو اور مسلمان کا نام دیتی ہے ۔ یوں تو ہر مذہب کی’’ بیس ‘‘ سلامتی پر ہی رکھی گئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان مذاہب کو ماننے والے اپنے اپنے مذاہب میں بتدریج تبدیلیاں کرتے گئے مگر مذہب اسلام ایسا آسمانی مذہب ہے جس میں تحریفات کی کوششوں کے باوجود اسلام آج بھی وہی ہے جیسا کم و بیش 14سوسال قبل اللہ کے آخری نبی ﷺ نے پیش کیا جو تمام آنے والے زمانوں کیلئے رحمت اور سلامتی کا پیغام ہے اور اس کی گواہی صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والے لوگ دیتے ہیں ۔
ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے معروف بھارتی شاعرہ لتا حیا نے کہا ہے کہ اسلام کو پسند کرتی ہوں اور مسلمانوں کے سلام کا طریقہ بہت پسند ہے جو سلامتی کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام بہت پسند ہے مگر کچھ حدود کی وجہ سے مسلم ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی باقی اللہ بہتر جاتا ہے کہ اس نے میرے نصیب میں کیا لکھاہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے مجھے قران مجید کا تحفہ آیا تھا جسے میں پڑھتی ہوں اور اس میں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔قرآن پاک سچائی اور وحدانیت کا درس دیتا ہے ۔ کہنے لگیں کہ مسلمانوں کا فرقوں میں تقسیم ہونا بر ا لگتاہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا مذہب بہت اچھا ہے فرقوں میں نہ پڑیں چونکہ اس سے وہ کمزور پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین‘ کشمیر اور شام میں بے گناہوں کے قتل عام پر بہت تکلیف ہوتی ہے، چاہتی ہوں سرحدوں کی لڑائی کو ختم ہونا چاہیے ،مجھے پاکستان سے بہت سارے محبت بھرے پیغامات آتے ہیں جن کا میں شکریہ ادا کرتی ہوں۔لتا میرا نا م ہے جبکہ شاعری میں تخلص کیلئے حیا رکھا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…