اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب کی اہم ترین خفیہ معلومات ایران کے ہاتھ چڑھ گئیں ہنگامی اقدامات اٹھا لئے گئے، خبر رساں ادارے کی رپورٹ

datetime 14  دسمبر‬‮  2016 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں بتیس جاسوسوں پر مشتمل سیل نے ایران کو 124 انٹیلی جنس رپورٹس مہیا کی تھیں۔ان میں سعودی عرب کی اہم فوجی تنصیبات کے بارے میں تفصیلی معلومات تھیں اور دوسرا سکیورٹی ڈیٹا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عدالت کے ایک ذرائع نے بتایا کہ سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک فوجداری عدالت نے گذشتہ ہفتے ان میں پندرہ سعودیوں کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھیں۔
پندرہ کو چھے ماہ سے پچیس سال تک سزائے قید کا حکم دیا تھا اور دو کو بری کردیا تھا۔ان میں ایک سعودی اور ایک افغان شہری تھا۔اس جاسوسی سیل کو سعودی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس نے 2014ء اور 2015ء کے اوائل میں بے نقاب کیا تھا۔عدالتی ذرائع کے مطابق ان افراد نے ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو بالمشافہ ملاقاتوں میں رپورٹس فراہم کی تھی۔
یہ عناصر الریاض میں ایرانی سفارت خانے ، جدہ میں قونصل خانے اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں ایرانی مشن میں سفارت کار کے بہروپ میں کام کررہے تھے۔وہ ای میلز کے ذریعے بھی خفیہ پیغامات ایرانی انٹیلی جنس کو بھیجا کرتے تھے۔انھیں ایرانی خفیہ اداروں کے عناصر ہی نے خفیہ پیغام رسانی کی تربیت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس سیل کے ارکان نے سعودی عرب اور اس سے باہر ایرانی خفیہ اداروں کے چوبیس عناصر سے بالمشافہ ملاقاتیں کی تھیں۔
اس جاسوسی سیل کے ارکان کے تہران میں انٹیلی جنس بیوروکے ڈائریکٹر ،اوا?ئی سی میں ایرانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری اور سپریم لیڈر ا?یت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ڈائریکٹر سے براہ راست روابط تھے۔اس سیل میں شامل سات سعودی فوجی اہلکار ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو حساس فوجی مقامات ، لڑاکا طیاروں ،فوجی ہوائی اڈوں اور خفیہ فوجی مراسلت کے بارے میں معلومات ، تصاویر اور دوسرا ڈیٹا مہیا کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فوجی جاسوس سعودی تنصیبات کی تصاویر بنانے کے لیے چھوٹے کیمرے استعمال کیا کرتے تھے اور انھیں تہران بھیجا کرتے تھے۔ان ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ الریاض میں شاہ فیصل اسپتال میں تعینات ایک میڈیکل کنسلٹینٹ تہران کو مرحوم شاہ عبداللہ اور ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کی صحت سے متعلق طبی رپورٹس بھیجا کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…