جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

سعودی عرب کی اہم ترین خفیہ معلومات ایران کے ہاتھ چڑھ گئیں ہنگامی اقدامات اٹھا لئے گئے، خبر رساں ادارے کی رپورٹ

datetime 14  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں بتیس جاسوسوں پر مشتمل سیل نے ایران کو 124 انٹیلی جنس رپورٹس مہیا کی تھیں۔ان میں سعودی عرب کی اہم فوجی تنصیبات کے بارے میں تفصیلی معلومات تھیں اور دوسرا سکیورٹی ڈیٹا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عدالت کے ایک ذرائع نے بتایا کہ سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک فوجداری عدالت نے گذشتہ ہفتے ان میں پندرہ سعودیوں کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھیں۔
پندرہ کو چھے ماہ سے پچیس سال تک سزائے قید کا حکم دیا تھا اور دو کو بری کردیا تھا۔ان میں ایک سعودی اور ایک افغان شہری تھا۔اس جاسوسی سیل کو سعودی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس نے 2014ء اور 2015ء کے اوائل میں بے نقاب کیا تھا۔عدالتی ذرائع کے مطابق ان افراد نے ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو بالمشافہ ملاقاتوں میں رپورٹس فراہم کی تھی۔
یہ عناصر الریاض میں ایرانی سفارت خانے ، جدہ میں قونصل خانے اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں ایرانی مشن میں سفارت کار کے بہروپ میں کام کررہے تھے۔وہ ای میلز کے ذریعے بھی خفیہ پیغامات ایرانی انٹیلی جنس کو بھیجا کرتے تھے۔انھیں ایرانی خفیہ اداروں کے عناصر ہی نے خفیہ پیغام رسانی کی تربیت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس سیل کے ارکان نے سعودی عرب اور اس سے باہر ایرانی خفیہ اداروں کے چوبیس عناصر سے بالمشافہ ملاقاتیں کی تھیں۔
اس جاسوسی سیل کے ارکان کے تہران میں انٹیلی جنس بیوروکے ڈائریکٹر ،اوا?ئی سی میں ایرانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری اور سپریم لیڈر ا?یت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ڈائریکٹر سے براہ راست روابط تھے۔اس سیل میں شامل سات سعودی فوجی اہلکار ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو حساس فوجی مقامات ، لڑاکا طیاروں ،فوجی ہوائی اڈوں اور خفیہ فوجی مراسلت کے بارے میں معلومات ، تصاویر اور دوسرا ڈیٹا مہیا کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فوجی جاسوس سعودی تنصیبات کی تصاویر بنانے کے لیے چھوٹے کیمرے استعمال کیا کرتے تھے اور انھیں تہران بھیجا کرتے تھے۔ان ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ الریاض میں شاہ فیصل اسپتال میں تعینات ایک میڈیکل کنسلٹینٹ تہران کو مرحوم شاہ عبداللہ اور ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کی صحت سے متعلق طبی رپورٹس بھیجا کرتے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…