ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

صدام حسین گرفتاری کے وقت بھی دہشت دکھا رہے تھے،سابق سی آئی اے ماہر

datetime 13  دسمبر‬‮  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)ایک امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار نے دعوی کیا ہے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین 2003 میں امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے کئی سال قبل ہی ملک کے انتظامی امور اور حکومتی معاملات سے غافل ہو چکے تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار جان نکسن نے کہاکہ یقینا صدام اپنے آخری برسوں میں ناولوں کی تصنیف میں مصروف تھے اور انہوں نے فوج پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس بات کی فکر کی کہ ان کے پیروکار کس طرح ملک چلا رہے ہیں۔نکسن نے اپنی کتاب میں جو 27 دسمبر کو بازار میں دستیاب ہو گی ، عراق کے سابق صدر کے حوالے سے بتایا کہ جس وقت امریکی اور برطانوی افواج عراق میں داخل ہوئی ہیں تو اس وقت صدام اس بات سے ناواقف تھے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔

وہ اپنی حکومت کی کارستانیوں سے ناواقف تھے اور ان کے پاس عراق کے دفاع کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ صدام اپنی گرفتاری کے وقت بھی اس طرح سے نخوت اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرتے رہے گویا کہ یہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ وہ تحقیق کار پر اوپر سے نیچے تک حقارت کی نظر ڈال رہے تھے۔نکسن کے مطابق گرفتاری اور حراست کے وقت بھی وہ خوف اور دہشت پیدا کر رہے تھے۔
نکسن نے پوچھا کہ تم نے اپنے بیٹوں عدی اور قصی کو آخری بار زندہ کب دیکھا تھا؟ صدام نے جواب دیا کہ تم کون ہو ؟ کیا تم لوگوں کا تعلق فوجی انٹیلی جنس سے ؟ جواب دو اور اپنی شناخت ظاہر کرو ؟ ۔اس کے بعد نکسن سے کہا کہ تمہارا انجام ناکامی ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ عراق پر حکومت کرنا آسان کام نہیں۔صدام حسین سے جب ان افواہوں کی تصدیق چاہی گئی کہ آیا ان کا سمیرہ نامی بیوی سے کوئی بیٹا ہے جس کا نام علی ہے۔

تو صدام حسین نے تحقیق کار کو جواب دیا کہ اگر میں تم سے کہہ دوں کہ ہاں تو کیا تم لوگ عدی اور قصی کی طرح اس کو بھی قتل کر ڈالو گے؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…