اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

صدام حسین گرفتاری کے وقت بھی دہشت دکھا رہے تھے،سابق سی آئی اے ماہر

datetime 13  دسمبر‬‮  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)ایک امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار نے دعوی کیا ہے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین 2003 میں امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے کئی سال قبل ہی ملک کے انتظامی امور اور حکومتی معاملات سے غافل ہو چکے تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار جان نکسن نے کہاکہ یقینا صدام اپنے آخری برسوں میں ناولوں کی تصنیف میں مصروف تھے اور انہوں نے فوج پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس بات کی فکر کی کہ ان کے پیروکار کس طرح ملک چلا رہے ہیں۔نکسن نے اپنی کتاب میں جو 27 دسمبر کو بازار میں دستیاب ہو گی ، عراق کے سابق صدر کے حوالے سے بتایا کہ جس وقت امریکی اور برطانوی افواج عراق میں داخل ہوئی ہیں تو اس وقت صدام اس بات سے ناواقف تھے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔

وہ اپنی حکومت کی کارستانیوں سے ناواقف تھے اور ان کے پاس عراق کے دفاع کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ صدام اپنی گرفتاری کے وقت بھی اس طرح سے نخوت اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرتے رہے گویا کہ یہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ وہ تحقیق کار پر اوپر سے نیچے تک حقارت کی نظر ڈال رہے تھے۔نکسن کے مطابق گرفتاری اور حراست کے وقت بھی وہ خوف اور دہشت پیدا کر رہے تھے۔
نکسن نے پوچھا کہ تم نے اپنے بیٹوں عدی اور قصی کو آخری بار زندہ کب دیکھا تھا؟ صدام نے جواب دیا کہ تم کون ہو ؟ کیا تم لوگوں کا تعلق فوجی انٹیلی جنس سے ؟ جواب دو اور اپنی شناخت ظاہر کرو ؟ ۔اس کے بعد نکسن سے کہا کہ تمہارا انجام ناکامی ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ عراق پر حکومت کرنا آسان کام نہیں۔صدام حسین سے جب ان افواہوں کی تصدیق چاہی گئی کہ آیا ان کا سمیرہ نامی بیوی سے کوئی بیٹا ہے جس کا نام علی ہے۔

تو صدام حسین نے تحقیق کار کو جواب دیا کہ اگر میں تم سے کہہ دوں کہ ہاں تو کیا تم لوگ عدی اور قصی کی طرح اس کو بھی قتل کر ڈالو گے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…