جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کینیڈین وزیراعظم کی شامی متاثرین سے ملاقات، دکھ بھری داستانیں سن کرجسٹن ٹروڈونے کیا کیا؟ غیر ملکی میڈیاکی رپورٹ

datetime 10  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اوٹاوا(آئی این پی) کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے شام سے منتقل ہونے والے متاثرین سے ملاقات کی، اس دوران شامی متاثرین کے بیانات سننے کے بعد کینیڈین وزیر اعظم اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسوچھلک گئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ٹی شو میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں موجود ایک شامی خاتون نے اپنے حالات بیان کرنا شروع کردیے جس کے بعد کینڈین وزیر اعظم اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔شامی خاتون نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے کینیڈا کی سرزمین پر قدم رکھا اور جہاز سے اترے تو ہم سے جس شخص نے ہاتھ ملایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ جسٹن ٹروڈو تھے۔انہوں نے کہا کہ کینڈین وزیر اعظم نے شامی متاثرین کا پرجوش استقبال کرتے ہوئے صرف دو الفاظ ویلکم ٹو ہوم اپنے ہی گھر میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں ادا کیے جس کے بعد ہمارے حوصلے بہت بلند ہوئے کیونکہ ہم شام میں اپنا سب کچھ لٹا کر آئے ہیں۔اس موقع پر دیگر شامی متاثرین نے کینڈین وزیر اعظم کا شکریہ ادار کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ کسی ایسے شخص کے لیے جو اپنا گھر چھوڑ کر آرہا ہو، وہ بھی ایسا گھر جہاں جنگ جاری ہو بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ان الفاظ کے بعد ہمیں کینیڈا میں آنے پر فخر محسوس ہوا۔واضح رہے شام گزشتہ کئی سالوں سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث اب تک خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں تاہم زندہ بچ جانے والے لاکھوں افراد ہجرت پر مجبور ہیں اور سمندر کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی کوشش میں ہیں۔سمندری جہازوں کے ذریعے ہجرت کرنے والے سینکڑو شامی سمندر کی نذر ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال سمندر کنارے ملنے والی شامی بچے ایلان کردی کی لاش نے دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کے ضمیر کو جھنھجوڑ کر رکھ دیا تھا جب کہ بمباری سے زخمی ہونے والی شامی بچی نے عالمی برادری کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا تاہم وہاں جنگ بدستور جاری ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…