ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

پابندی کے خاتمے کا مطالبہ ، امریکہ نے نئی پالیسی کا اعلان کر دیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2016 |

واشنگٹن (آئی این پی)پابندی کے خاتمے کا مطالبہ ، امریکہ نے نئی پالیسی کا اعلان کر دیا ،امریکہ نے کیوبا کیلئے نئی پالیسی کا اعلان کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایڈوازرسوزین رائس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اوباما نے کیوباکیلئے نئی پالیسی کا اعلان کردیا ہے ۔سوزین رائس نے بتایاکہ نئی پالیسی میں وسیع تعلقات،تعاون اوردونوں ملکوں کیلیے مواقع موجودہیں۔سوزین رائس کا کہناہے کہ نئی پالیسی کے تحت امریکہ سے کیوبا کو محدود برآمدات اور امریکی فرمزکوکیوبا میں انسانی بنیادوں پرانفراسٹرکچرکی تعمیر کی اجازت ہوگی۔نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزرنے امریکی کانگریس سے کیوباپرسے پابندی کے خاتمے کامطالبہ بھی کیا۔ان کاکہناتھاکہ کیوباکیساتھ تجارتی تعلقات کوختم کرنا امریکہ کے حق میں نہیں ہوگا۔خیال رہے کہ امریکہ نے کیوبا میں 1961 کے انقلاب کے بعد کیمونسٹ رہنما فیدل کاسترو کے اقتدار میں آنے کے بعد سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے اور اس پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیںاورنئی پالیسی میں وسیع تعلقات،تعاون اوردونوں ملکوں کیلئے مواقع موجودہیں، امریکہ سے کیوبا کو محدود برآمدات اور امریکی فرمزکوکیوبا میں انسانی بنیادوں پرانفراسٹرکچرکی تعمیر کی اجازت ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت امریکہ سے کیوبا کو محدود برآمدات اور امریکی فرمزکوکیوبا میں انسانی بنیادوں پرانفراسٹرکچرکی تعمیر کی اجازت ہوگی۔نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزرنے امریکی کانگریس سے کیوباپرسے پابندی کے خاتمے کامطالبہ بھی کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال امریکہ اور کیوبا کے درمیان سفارتی تعلقات 50 برس سے زائد عرصے کے بعد باضابطہ طور پر دوبارہ بحال ہو گئے تھے۔ امریکی صدر براک اوباما نے گزشتہ سال دسمبر میں دونوں ممالک میں تعلقات بہتر بنانے کا تاریخی اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ صدراوباما کی کیوبا کیساتھ تعلقات بحالی کی پالیسی کوامریکہ میں شدید تنقید کا سامنا ہے،صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن براک اوباماکی پالیسی کاتسلسل چاہتی ہیں جبکہ ڈونلڈٹرمپ نے صدرمنتخب ہونے کی صورت میں پالیسی میں ردوبدل کاعندیہ دیاہے۔‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…