اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’ہم نے دریائے راوی سے پاکستان کی یہ اہم چیز قبضے میں لے لی ہے‘‘بھارتی فوج نے ایک اور بڑا دعویٰ کر ڈالا

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی)بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف ) نے پنجاب کے ضلع امرتسر میں دریائے راوی سے خالی پاکستانی کشتی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ضلع امرتسر میں دریائے راوی سے خالی پاکستانی کشتی کو قبضے میں لیا گیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ کشتی سے کوئی بھی مشکوک چیز برآمد نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل بھارتی کوسٹ گارڈ نے گجرات کے ساحلی علاقے سے پاکستانی کشتی کو قبضے میں لینے اور عملے کے 9ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاتھا تاہم پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان کی کوئی بھی کشتی یا ماہی گیر لاپتہ نہیں ہیں بھارتی دعوی بے بنیاد ہے۔
دوسری جانب بھارت کی ایک اور سازش ناکام ،بارہ مولا میں فوجی کیمپ پر حملے میں سیکورٹی اہلکار کی ہلاکت کا پاکستان پر الزام جھوٹا نکلا،بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بی ایس ایف کے اہلکار کی بارہ مولا میں ہلاکت ’’فرینڈلی فائر ‘‘ کا نتیجہ تھی جبکہ بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی افواج کی جانب سے مظالم کے نتیجے میں کشمیریوں کو رد عمل روکنا ممکن نہیں، حملے بھی کسی صورت نہیں روکے جاسکتے،ایک ایسے وقت میں جب بھارتی حکومت اور فوج پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں فوجی کیمپ پر حملے کے دوران بی ایس ایف کے اہلکار کی بارہ مولا میں ہلاکت ’’فرینڈلی فائر ‘‘ کا نتیجہ تھی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بارڈر سکیورٹی فورسز کے سربراہ نے ناکامی کا بڑا اعتراف کرلیا ہے۔ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کرشن کمار شرما کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی جانب سے ہونے والے حملے روکنا ان کی فورسز کے لئے ممکن ہی نہیں۔بھارتی صحافیوں نے سوال کیے کہ سر بتائیں بارہ مولا میں کیا ہوا؟ وہاں بی ایس ایف کانسٹیبل کیسے مار اگیا ؟ انڈین آرمی بہتر پوزیشن میں ہے کہ بتائے بی ایس ایف جوان کیسے مارا گیا،نیتن کمار آپ کا کانسٹیبل تھا آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کیسے مارا گیا ؟ اس پر ڈی جی بی ایس ایف کے کے شرما نے اس پر کہاکہ مشکو ک حرکت دیکھ کر نتین چوکنا ہوا تو اس پر فائر ہوا پھر اسکی ٹانگ کے پاس بم پھٹا۔ایک صحافی نے پوچھا کوئی عینی شاہد ہے کس نے گولی چلائی ؟کہاں سے گولی آئی ؟ اس پر کے کے شرما نے کہاکہ رات ساڑھے دس بجے گہرا اندھیر ا تھا نہیں دیکھا کہ گولی کہاں سے چلی۔صحافی نے سوال کیا کہ ڈی جی صاحب میڈیا کہہ رہا ہے کہ نتین فرینڈلی فائر سے مرا اس پر ڈی جی نے کہاکہ بہت کنفیوژن ہے کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ بتا سکے کہ گولی کس نے اور کہاں سے چلائی۔ یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جہاں بھارتی مظالم انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں وہیں ان مظالم پر عوامی رد عمل بھی انتہائی شدید ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…