اسلام آباد (آئی این پی)بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف ) نے پنجاب کے ضلع امرتسر میں دریائے راوی سے خالی پاکستانی کشتی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ضلع امرتسر میں دریائے راوی سے خالی پاکستانی کشتی کو قبضے میں لیا گیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ کشتی سے کوئی بھی مشکوک چیز برآمد نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل بھارتی کوسٹ گارڈ نے گجرات کے ساحلی علاقے سے پاکستانی کشتی کو قبضے میں لینے اور عملے کے 9ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاتھا تاہم پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان کی کوئی بھی کشتی یا ماہی گیر لاپتہ نہیں ہیں بھارتی دعوی بے بنیاد ہے۔
دوسری جانب بھارت کی ایک اور سازش ناکام ،بارہ مولا میں فوجی کیمپ پر حملے میں سیکورٹی اہلکار کی ہلاکت کا پاکستان پر الزام جھوٹا نکلا،بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بی ایس ایف کے اہلکار کی بارہ مولا میں ہلاکت ’’فرینڈلی فائر ‘‘ کا نتیجہ تھی جبکہ بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی افواج کی جانب سے مظالم کے نتیجے میں کشمیریوں کو رد عمل روکنا ممکن نہیں، حملے بھی کسی صورت نہیں روکے جاسکتے،ایک ایسے وقت میں جب بھارتی حکومت اور فوج پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں فوجی کیمپ پر حملے کے دوران بی ایس ایف کے اہلکار کی بارہ مولا میں ہلاکت ’’فرینڈلی فائر ‘‘ کا نتیجہ تھی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بارڈر سکیورٹی فورسز کے سربراہ نے ناکامی کا بڑا اعتراف کرلیا ہے۔ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کرشن کمار شرما کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی جانب سے ہونے والے حملے روکنا ان کی فورسز کے لئے ممکن ہی نہیں۔بھارتی صحافیوں نے سوال کیے کہ سر بتائیں بارہ مولا میں کیا ہوا؟ وہاں بی ایس ایف کانسٹیبل کیسے مار اگیا ؟ انڈین آرمی بہتر پوزیشن میں ہے کہ بتائے بی ایس ایف جوان کیسے مارا گیا،نیتن کمار آپ کا کانسٹیبل تھا آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کیسے مارا گیا ؟ اس پر ڈی جی بی ایس ایف کے کے شرما نے اس پر کہاکہ مشکو ک حرکت دیکھ کر نتین چوکنا ہوا تو اس پر فائر ہوا پھر اسکی ٹانگ کے پاس بم پھٹا۔ایک صحافی نے پوچھا کوئی عینی شاہد ہے کس نے گولی چلائی ؟کہاں سے گولی آئی ؟ اس پر کے کے شرما نے کہاکہ رات ساڑھے دس بجے گہرا اندھیر ا تھا نہیں دیکھا کہ گولی کہاں سے چلی۔صحافی نے سوال کیا کہ ڈی جی صاحب میڈیا کہہ رہا ہے کہ نتین فرینڈلی فائر سے مرا اس پر ڈی جی نے کہاکہ بہت کنفیوژن ہے کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ بتا سکے کہ گولی کس نے اور کہاں سے چلائی۔ یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جہاں بھارتی مظالم انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں وہیں ان مظالم پر عوامی رد عمل بھی انتہائی شدید ہے۔
’’ہم نے دریائے راوی سے پاکستان کی یہ اہم چیز قبضے میں لے لی ہے‘‘بھارتی فوج نے ایک اور بڑا دعویٰ کر ڈالا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
موسم گرما کی سرکاری تعطیلات،حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری!
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
حملے کا خدشہ، سعودی عرب میں ہائی الرٹ
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
12 ربیع الاول کی چھٹی سے متعلق اہم خبر آگئی
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
عبداللہ طاہر قتل کیس،مقتول کے ڈرائیور کو 22سالہ لڑکی کے ذریعے ہنی ٹریپ کیے جانے کا انکشاف



















































