ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

افغانستان لرز اٹھا، کابل میں تباہی مچ گئی،درجنوں ہلاک و زخمی

datetime 5  ستمبر‬‮  2016 |

کابل(این این آئی) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں وزارت دفاع کے دفتر کے قریب دو خود کش دھماکوں میں 24 افراد ہلاک اور 91 سے زائد زخمی ہوگئے ٗزحمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے ٗ دھماکے کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ٗ آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے ۔ پیر کو غیر ملکی میڈیا نے افغان وزارت دفاع کے ترجمان صادق صدیقی کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ‘2 خود کش بمباروں نے اپنے جسم پر موجود دھماکا خیز مواد کو کابل میں اڑایا۔ترجمان نے کہاکہ دونوں خود کش دھماکوں میں پولیس اور عام شہری ہلاک ہوئے۔افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح نے بتایا کہ واقعہ میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور 91 سے زائد زخمی ہوئے۔کابل میں قائم اٹلی کے تحت چلنے والے ایک ایمرجنسی ہسپتال کی انتظامیہ نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ان کے پاس اب تک 21 زخمی لائے گئے تھے جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے ٗ مزید کی آمد متوقع ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پہلے خود کش بمبار کا نشانہ افغان وزارت دفاع کی عمارت تھی جبکہ دوسرے خود کش بمبار نے پولیس کو نشانہ بنایا۔واضح رہے کہ گذشتہ سال سے افغان طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں وہ نہ صرف افغان فورسز بلکہ افغان حکومت کے دفاتر کو بھی نشانہ بنارہے ہیں یاد رہے کہ افغانستان میں 1996 سے 2001 کے دوران افغان طالبان نے افغانستان میں اپنی حکومت امارت اسلامیہ قائم کی تھی اور وہ ایک مرتبہ پھر ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے جنگ میں مصروف ہیں۔افغانستان میں امریکا کی اتحادی نیٹو افواج کے گزشتہ 13 برس سے جاری مشن کو ختم کردیا گیا جس کا آغاز 11 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے بعد طالبان کے خلاف جنگ سے ہوا تھا۔یکم جنوری 2015 سے نیٹو کی انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کو ٹریننگ اینڈ سپورٹ مشن سے تبدیل کردیا گیا جس کے تحت تقریباً 13 ہزار نیٹو فوجی افغانستان میں قیام کریں گے ان میں امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔طالبان کے خلاف جنگ کے باعث پورے ملک میں تشدد کی فضا پروان چڑھ چکی ہے اور سال 2014 میں تقریباً 3188 افغان شہری اس جنگ کی بھینٹ چڑھے، جو اقوام متحدہ کے مطابق سب سے بدترین سال رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…