ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سری لنکن ایئر لائنز کا اپنے نئے ایئر بس طیارے پَٹے پر پاکستان اور ایران کو دینے کا فیصلہ

datetime 22  جولائی  2016 |

کولمبو(مانیٹرنگ ڈیسک )انتہائی حد تک مقروض سری لنکن ایئر لائنز نے اپنے نئے ایئر بس طیارے پَٹے پر پاکستان اور ایران کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح آئندہ پاکستانی فضائی کمپنی پی آئی اے کی کئی مسافر پروازوں کے طیارے اور عملہ سری لنکن ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سری لنکن ایئر لائنز کو اس وقت مجموعی طور پر قریب ایک ارب ڈالر کے مالی نقصانات کا سامنا ہے، جنہیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس ایئر لائن نے اب اپنے نئے ایئر بس طیارے دوسرے ملکوں کو پَٹے پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ملک پاکستان اور ایران ہیں۔سری لنکا کے سرکاری صنعتی اور کاروباری اداروں کی ترقی کے وزیر کبیر ہاشم نے آج کولمبو میں کہاکہ ہم عنقریب ہی پاکستان کی سرکاری فضائی کمپنی پی آئی اے کے ساتھ کم از کم ایک ایئر بس A330 طیارے کی لیز کا معاہدہ طے کرنے والے ہیں۔
کبیر ہاشم نے کہا کہ اس طیارے کو ایک ایئر لائن کے طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز چلائے گی لیکن اس کا عملہ سری لنکن ہو گا اور اس مسافر طیارے کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کا مرکز برطانوی دارالحکومت لندن ہو گا۔سری لنکا کے اس وزیر نے بتایا کہ یہ طیارہ لاہور اور اسلام آباد کی طرف تجارتی پروازوں کے لیے استعمال کیا جائے گا اورہماری پی آئی اے کے ساتھ اس بارے میں بات چیت بھی جاری ہے کہ سری لنکن ایئر لائنز پی آئی اے کو کم از کم تین اور A330 طیارے بھی پَٹے پر فراہم کر سکے۔ ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی سری لنکا کے یہ مسافر طیارے لیز پر حاصل کرنے میں بہت دلچسپی ظاہر کی ہے۔ کبیر ہاشم کے بقول ایران سری لنکن ایئر لائنز سے ایک بڑا A350 مسافر طیارہ پَٹے پر حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ اگلے چند ہی ماہ میں ایران کے حوالے کر دیا جائے گا۔سری لنکن ایئر لائنز کا مجموعی کاروباری خسارہ اس وقت 993 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہو چکا ہے اور اسی وجہ سے یہ فضائی کمپنی آئندہ مہینوں میں نہ صرف کئی یورپی شہروں کے لیے اپنی مسافر پروازیں بند کر دینے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ اپنے کاروبار میں اضافے کے لیے نئے تجارتی ساتھیوں کی تلاش میں بھی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…