ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

سعودی عرب میں غیرملکیوں کی ریٹائرمنٹ کےلئے نیاقانون لانے کافیصلہ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |
epa03966041 A photo made available on 26 November 2013 shows a Saudi police officer standing next to foreign workers, who had been illegally staying in the Kingdom, before being deported, in Riyadh, Saudi Arabia, 20 November 2013. Media reports on 13 November 2013 state Saudi authorities have detained more than 20,000 foreign migrant workers in the holy city of Mecca since a nationwide clampdown started. Saudi authorities began their sweep after the end of a seven-month amnesty for foreign migrants whose work permits had expired or who were not working for their official sponsors. EPA/STR

کراچی(نیوزڈیسک)سعودی عرب میں غیرملکیوں کی ریٹائرمنٹ کےلئے نیاقانون لانے کافیصلہ .سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو 60 سال کی عمر میں لازمی ریٹائر کیے جانے پر غور شروع ہوگیا ہے۔ مقامی افراد تو پہلے ہی 60 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائرڈ کردیئے جاتے ہیں جبکہ اب غیر ملکیوں پر بھی اس قانون کے اطلاق پر غور کیا جارہا ہے، ماسوائے ان افراد کے جو اپنے اپنے شعبوں میں انتہائی ماہر خیال کئے جاتے ہوں۔ موقر سعودی اخبار ”المدینہ“ کے مطابق سعودی عرب میں رہنے والے غیر ملکیوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے بارے میں تجاویز سعودی وزارت محنت نے تیار کی ہیں۔ خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ آبادی اور دنیا میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں پرعمر کی فی الوقت کوئی قید نہیں لیکن سعودی شہری 60 سال کی عمر میں ریٹائر کر دئیے جاتے ہیں۔ جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ہیومن ریسورس کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سمیر حسن نے اخبار کو بتایا کہ نئے قانون میں ریٹائرڈ ہونے والے غیر ملکی ورکر کی جگہ سعودی شہریوں کو نوکری دینے کی شق بھی شامل کی جانی چاہیے۔ گو کہ اخبار ی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ ریٹائر منٹ کی عمر سے متعلق قانون کب نافذ ہو گا تاہم ”عربین بزنس“ نامی ایک ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس قانون سے پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرنے والے 60 سال سے زائد عمر کے تقریباً پانچ لاکھ غیر سعودی باشندے متاثر ہوں گے۔ سعودی وزارت محنت کے مطابق سعودی شہریوں کی 12 فیصد آبادی بے روزگار ہے اور نجی شعبے میں ہر 10 میں سے نو افراد غیر ملکی ہیں۔ سعودی حکومت نجی شعبے میں سعودی شہریوں کی تعداد بڑھانے کے لئے متعدد اقدامات کر رہی ہے جن میں کمپنیوں کو غیر ملکی ورکرز کا کوٹہ مقرر کرنے کا بھی پابند بنایاگیا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی کمپنی مقررہ کوٹے سے زیادہ غیر ملکی ورکر زکو کام دے گی تو اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…