بدھ‬‮ ، 29 جولائی‬‮ 2026 

سویڈش لڑکی نکاح کی تصدیق کے لئے داعش کے پاس پہنچ گئی

datetime 15  اگست‬‮  2015 |
Yazidi Kurds protest against the Islamic State group's invasion on Sinjar city one year ago, in Dohuk, northern Iraq. Thousands of Yazidi Kurdish women and girls have been sold into sexual slavery and forced to marry Islamic State militants, according to Human Rights organizations, Yazidi activists and observers. (AP Photo/Seivan M.Salim)

سٹاک ہوم(نیوزڈیسک) سویڈن سے تعلق رکھنے والی ایک پندرہ سالہ لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بھاگ کر جنگ زدہ شام پہنچ گئی ہے جہاں وہ دونوں داعش کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔سویڈش میڈیا نے سوموار کو اس لڑکی کے بھاگ کر ترکی کے راستے شام پہنچنے کی اطلاع دی ہے لیکن سویڈش وزارت خارجہ کے حکام نے اس کیس سے متعلق اپنے لب سی رکھے ہیں اور انھوں نے بہت تھوڑی تفصیل فراہم کی ہے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان جبریل ورنسٹڈٹ نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ”ہمیں ایک نوعمر سویڈش لڑکی کے شام میں موجود ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے اور ہم اس کے خاندان کے افراد سے رابطے میں ہیں”۔ترجمان نے اس کیس سے متعلق کوئی بھی تفصیل افشائ کرنے سے انکار کیا ہے اور اس لڑکی کا نام بھی نہیں بتایا۔سویڈش روزنامے ایکسپریسن اور مقامی اخبار براس ٹائڈننگ نے اطلاع دی ہے کہ پندرہ سالہ لڑکی جنوب مغربی شہر گوتھنبرگ کے نزدیک واقع قصبے براس میں اپنے گھر سے 31 مئی کو لاپتا ہوئی تھی۔یہ لڑکی اور اس کا انیس سالہ بوائے فرینڈ مبینہ طور پر ترکی کے راستے شام پہنچے تھے اور وہاں آمد کے بعد انھیں القاعدہ سے وابستہ گروپ نے بھرتی کر لیا تھا۔انھیں اگست کے اوائل میں داعش کے جنگجوو¿ں نے پکڑ لیا تھا۔ان دونوں نے اس سال کے اوائل میں سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں مسلمانوں کی رسم کے مطابق نکاح کر لیا تھا لیکن انھوں نے اپنے والدین کو اس شادی کی بھنک نہیں پڑنے دی تھی۔اس لڑکی نے دوران حراست دو مرتبہ اپنی ساتھی کسی خاتون سے سیل فون لے کر اپنے والدین سے بات کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ وہ اپنی شادی سے متعلق داعش کی تصدیق کے منتظر ہیں۔
اس لڑکی کے والد نے اخبار براس ٹائڈننگ کو بتایا ہے کہ ”صورت حال بڑی گمبھیر ہے اور اب داعش یہ فیصلہ کریں گے کہ ان کی شادی جائز ہے یا نہیں۔اس کے بعد اس کے خاوند لڑکے کو داعش کی بیعت کرنا ہوگی”۔انھوں نے مزید کہا کہ ”اگر داعش والے شادی کو جائز قرار دے دیتے ہیں تو پھر انھیں الرقہ منتقل کردیا جائے گا جو حلب سے بھی بدتر جگہ ہے۔دوسری صورت میں اس لڑکی کو حلب کے شمال مشرق میں واقع قصبے منبج میں خواتین کے ایک گروپ کے سپرد کردیا جائے گا”۔اخبار ایکپریسن کے مطابق لڑکی چھے ماہ کی حاملہ ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…